ملفوظات (جلد 4) — Page 255
ہے دنیا میں اگر کسی معاملہ میں اتفاق بھی کرتے ہیں تو اس کی باریک درباریک جزئیوں تک پہنچنا محال ہو جاتا ہے اور جزئی در جزئی نکلتی چلی آتی ہے۔تبادلہ خیالات کے لیے مجمعوں میں تقریریں کرنی بھی اچھی چیز ہیں لیکن ابھی تک ہمارے ملک میں ایسے مہذب لوگ بہت ہی کم ہیں بلکہ نہیں ہیں جو آرام اور امن کے ساتھ اپنی مخا لف رائے ظاہر کر سکیں۔میں نے خود یہ چاہا تھا اور میرا ارادہ ہے کہ قادیان میں ایک جگہ ایسی بنا ویں جہاں مختلف لوگ مذاہب کے جمع ہو کر ا پنے اپنے مذہب کی صد اقت اور خوبیوں کو آزادی سے بیان کرسکیں۔میں دیکھتا ہوں کہ اگر اظہار حق کے لیے مبا حثے اور تقریریں ہوں تو بہت اچھی بات ہے مگر تجربہ سے ثابت ہو گیا ہے کہ ان میں فتنہ وفسا د کا مظنّہ ہوتا ہے اس لیے میں نے ان مبا حثوں کو چھوڑدیا ہے ممکن ہے دو چار آدمی ایسے بھی ہوں جو صبر اور نرمی کے ساتھ اپنے مخالف کی بات سن لیں لیکن کثرت ایسے لوگوں کی ہوگی جو عوام الناس میں سے ہوتے ہیں اور وہ اپنے مخالف کے منہ سے ایک لفظ بھی اپنے مذہب کے خلاف نہیں سن سکتے خواہ وہ کتنا ہی نرم کیوں نہ ہو۔چونکہ جب مخالف بیان کرے گا تو کوئی نہ کوئی لفظ اس کے منہ سے ایسا نکل سکتا ہے جو اس کے فریق مخالف کی غلطی کے اظہار میں ہوگا اور اس سے عوام میں جوش پھیل جاتا ہے ایسی جگہ تو تب امن رہ سکتا ہے جب سمجھانے والا اور سمجھنے والا اس طرح بیٹھیں کہ جیسے با پ بیٹے میں کوئی برائی دیکھتا ہے اور اس کو سمجھاتا ہے تو وہ نرمی اور صبرسے اس کو سن لیتا ہے ایسی محبت کی کشش سے البتہ فائدہ ہوتا ہے غیظ وغضب کی حالت میں یہ امید رکھناکہ کوئی فائدہ ہو خام خیال ہے۔ہندواور مسلمانوں کے با ہم تعلقات میں ابتری اب مشکل آکر یہ پڑی ہے کہ ایک تودین کا اختلاف ہی ہے پھر اس پر احقاقِ حق لوگوں کی غرض نہیں رہی بلکہ بغض و عناد میں اس قدر ترقی کی گئی ہے کہ اپنے فریق مخالف کا نام بھی ادب یا عزّت سے لینا گناہ سمجھا جاتا ہے میںـ دیکھتا ہوں کہ بڑی بے ادبی اور گستاخی سے بات کرتے ہیں پہلے ہندو مسلمانوں میں ایسے تعلقات تھے کہ برادری کی طرح رہتے