ملفوظات (جلد 4) — Page 17
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۷ جلد چهارم تو ایمان کی تقویت کا باعث ہو کر اس کو عرفان بنا دیتی ہیں۔ اس لئے جو امر پیشگوئی پر مشتمل ہو میں اس کو ضرور سنا دیا کرتا ہوں اور میری غرض اس سے یہی ہوتی ہے۔ یہ ایک نور بخشتی ہیں اور جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے نور نازل نہ ہوانسان غلطی میں پڑا رہتا ہے۔ ابوسعید عرب صاحب نے اپنی رؤیا بیان کی کہ ایک کتا پیار سے کاٹتا ہے اور پھر اس نے تعبیر الرؤیا انڈا دیا جس کوانہوں نے توڑ ڈالا اور وہ بھاگ گیا۔ فرمایا۔ کتا ایک برزخ ہے درندگی اور چرندگی میں ۔ جب وہ محبت سے کاٹے تو محبت ہے اور کتے سے مراد خفیف سادشمن ہوتا ہے۔ اس کے انڈے سے مراد اس کی ذریت ہے جب اس کو توڑ دیا تو گویا خفیف اور کمز ور دشمن کی ذریت کو تلف کر دیا۔ فرمایا۔ جس بادشاہ کے ہم زیر سایہ ہیں اس کو چھوڑ کر دوسروں کے پاس جانا یہ تو ہین توحید ہے ۔ بِئْسَ الْفَقِيرُ عَلَى بَابِ الْأَمِيرِ - ۔ ابوسعید عرب صاحب نے اپنے ذوق سے بیان کیا کہ مولوی محمد حسین اور اس کا رجوع محمد حسین والی پیشگوئی یقیناً خدا کی طرف سے ہے۔ فرمایا کہ اس میں کیا شک ہے۔ زور کے ساتھ یہ دعویٰ کیا گیا ہے۔ کہ وہ رجوع کرے گا اور اللہ تعالیٰ نے ایسا ہی مقدر کیا تھا ۔ اصل میں محمد حسین زیرک آدمی تھا مگر میں دیکھتا تھا کہ ابتدا سے اس میں ایک قسم کی خود پسندی تھی ۔ پس اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ اس طرح پر اس کا تنقیہ کر دے یہ اس کے لئے استفراغ ہے۔ براہین میں ایک الہام درج ہے جس میں اس کا فرعون نام رکھا گیا ہے۔ اس نے بھی آخر یہی کہنا تھا کہ آمَنْتُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُوا إِسْرَائِيلَ (یونس: ۹۱) اس لئے اس کے لئے بھی آمَنْتُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا الَّذِی کا وقت مقدر ہے۔ اس پر پوچھا گیا کہ وہ کیا امر ہے جس کی وجہ سے یہ آخری سعادت اس کے لئے مقدر ہے۔ فرمایا۔ یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے مگر اس نے ایک کام تو کیا ہے۔ براہین احمدیہ پر ریو یولکھا تھا اور وہ واقعی اخلاص سے لکھا تھا کیونکہ اس وقت اس کی یہ حالت تھی کہ بعض ! اوقات میرے جوتے اٹھا