ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 235 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 235

غضب ایسا نہ ہو کہ بَارُوْت کی طرح جب آگ لگے تو ختم ہونے میں نہیں آتی۔بعض لوگ تو غصہ سے سودائی ہو جاتے ہیں اور اپنے ہی سر میں پتھر مار لیتے ہیں۔اگرہمیں کوئی گالی دیتا ہے تو بھی صبر کرو۔میں سمجھتا ہوں کہ جب کسی کے پیرو مرشد کو گالیاں دی جاویں یا اس کے رسول کے متعلق ہتک آمیز کلمے کہے جاویں تو کیساجوش ہوتا ہے مگر تم صبرکرو اورحلم سے کلام کرو۔مسلوب الغضب بن جائو ایسا نہ ہو کہ تمہارا اس وقت کا غصہ کوئی خرابی پیدا کردے جس سے سارا سلسلہ بدنام ہو یا کوئی مقدمہ بنے جس سے سب کو تشویش ہو۔سب نبیوں کو گالیاں دی گئی ہیں۔یہ انبیاء کا ورثہ ہے۔ہم اس سے کیوں کر محروم رہ سکتے تھے ایسے بن جائو کہ گویا مسلوب الغضب ہو۔تم کو گویا غضب کے قویٰ ہی نہیں دیئے گئے۔دیکھو! گر کچھ بھی تاریکی کا حصہ ہے تونور نہیں آئے گا۔نور اور ظلمت جمع نہیں ہوسکتے۔جب نور آجائے گا تو ظلمت نہیں رہے گی۔تم اپنے سارے ہی قویٰ کو پورے طور سے اللہ تعالیٰ کی فرمانبردار ی میں لگاؤ اور جوجو کمی کسی قوت میں ہو اسے اس پان والے کی طرح جو گندے پان تلاش کرکے پھینک دیتا ہے اپنی گندی عادات کو نکال پھینکو اور سارے اعضا کی اصلاح کر لو یہ نہ ہو کہ نیکی کرو اور نیکی میں بدی ملادو۔توبہ کرتے رہو۔استغفار کرو۔دعا سے ہر وقت کام لو۔ولی اللہ ولی کیا ہوتے ہیں یہی صفات تو اولیاء کے ہوتے ہیں۔ان کی آنکھ، ہاتھ، پاؤں غرض کوئی عضو ہو۔منشاءِ الٰہی کے خلاف حرکت نہیں کرتے۔خدا کی عظمت کا بوجھ ان پر ایسا ہوتا ہے کہ وہ خدا کی زیارت کے بغیر ایک جگہ سے دوسری جگہ نہیں جا سکتے پس تم بھی کوشش کرو۔خدا بخیل نہیں۔ع ہر کہ عارف تر است تر ساں تر (دربارِ شا م ) قرآن شریف کی ایک برکت ایک شخص نے عر ض کی کہ حضور میرے واسطے دعا کی جاوے کہ میری زبان قرآن شریف اچھی طرح ادا کرنے لگے۔قرآن شریف ادا کرنے کے قابل نہیں اور چلتی نہیں۔میری زبان کھل جاوے۔فرمایا کہ تم صبرسے قرآن شریف پڑھتے جاؤ۔اللہ تعالیٰ تمہاری زبان کو کھول دے گا۔