ملفوظات (جلد 4) — Page 233
اس کا آقا اس کو حکم کرے۔جب خدا نے ہمیں نرمی کی تعلیم دی ہے تو ہم کیوں سختی کریں۔ثوا ب تو فرماں برداری میں ہوتا ہے۔اور دین تو سچی اطاعت کا نام ہے نہ یہ کہ اپنے نفس اور ہواوہوس کی تابعد اری سے جوش دکھاویں۔مغلو ب الغضب غلبہ ونصرت سے محروم ہوتا ہے یاد رکھو جو شخص سختی کرتا اور غضب میں آ جاتا ہے اس کی زبان سے معارف اور حکمت کی باتیں ہرگز نہیں نکل سکتیں۔وہ دل حکمت کی باتوں سے محروم کیا جاتا ہے جو اپنے مقابل کے سامنے جلدی طیش میں آکر آپے سے باہر ہو جاتا ہے۔گندہ دہن اور بے لگام کے ہونٹھ لطائف کے چشمہ سے بے نصیب اور محروم کیے جاتے ہیں۔غضب اور حکمت دونوں جمع نہیں ہوسکتے۔جو مغلو ب الغضب ہوتا ہے اس کی عقل موٹی اور فہم کند ہوتا ہے۔اس کو کبھی کسی میدان میں غلبہ اور نصرت نہیں دیئے جاتے۔غضب نصف جنون ہے اور جب یہ زیادہ بھڑکتا ہے تو پورا جنون ہوسکتا ہے۔ہماری جماعت کو چاہیے کہ کُل ناکردنی افعال سے دور رہا کریں۔وہ شا خ جو اپنے تنے اور درخت سے سچا تعلق نہیں رکھتی وہ بے پھل رہ جایا کرتی ہے۔سو دیکھو! اگر تم لوگ ہمارے اصل مقصد کو نہ سمجھو گے اور شرائط پر کار بند نہ ہوگے تو ان وعدوں کے وارث تم کیسے بن سکتے ہو جو خدا نے ہمیں دیئے ہیں۔نصیحت کا پیرایہ جسے نصیحت کرنی ہو اُسے زبان سے کرو۔ایک ہی بات ہوتی ہے وہ ایک پیرایہ میں ادا کرنے سے ایک شخص کو دشمن بنا سکتی ہے اور دوسرے پیرایہ میں دوست بنا دیتی ہے پس جَادِلْهُمْ بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ ( النحل:۱۲۶ ) کے موافق اپنا عمل درآمد رکھو۔اسی طر ز کلام ہی کا نام خدا نے حکمت رکھا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَنْ يَّشَآءُ(البقرۃ:۲۷) مگر یا درکھو کہ جیسے یہ باتیں حر ام ہیں ویسے ہی نفا ق بھی حرام ہے۔اس بات کا بھی خیال رکھنا کہ کہیں پیرایہ ایسا نہ ہو جاوے کہ اس کا رنگ نفاق سے مشابہ ہو۔موقع کے موافق ایسی کارروائی کرو جس سے اصلاح ہوتی ہو۔تمہاری نرمی ایسی نہ ہو کہ نفاق بن جاوے اور تمہارا