ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 215 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 215

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۱۵ جلد چهارم اور اسی کا ہے تو کسی انسان کی طاقت میں نہیں کہ اس کو تباہ کر سکے اور کوئی ہتھیا راس پر چل نہیں سکتا لیکن اگر انسان کا ہے تو پھر خود ہی تباہ ہو سکتا ہے انسان کو زور لگانے کی بھی کیا حاجت ہے۔ ( در بار شام ) نو وارد صاحب کی وجہ سے تحریک تو ہو رہی تھی اس لیے بعد ادائے نماز مغرب حضرت حجۃ اللہ نے ایک مختصر سی جامع تقریر فرمائی۔ جس کا ہم فقط خلاصہ دیتے ہیں ۔ فرمایا۔ حقیقت اسلام لوگ حقیقت اسلام سے بالکل دور جا پڑے ہیں۔ اسلام میں حقیقی زندگی ایک موت چاہتی ہے جو تلخ ہے لیکن جو اس کو قبول کرتا ہے آخر وہی زندہ ہوتا ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ انسان دنیا کی خواہشوں اور لذتوں کو ہی جنت سمجھتا ہے حالانکہ وہ دوزخ ہے اور سعید آدمی خدا کو کی راہ میں تکالیف کو قبول کرتا ہے اور وہی جنت ہوتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا فانی ہے اور سب مرنے کے لیے پیدا ہوئے ہیں آخر ایک وقت آجاتا ہے کہ سب دوست آشنا عزیز واقارب جدا ہو جاتے ہیں ۔ اس وقت جس قدر نا جائز خوشیوں اور لذتوں کو راحت سمجھتا تھا وہ تلخیوں کی صورت میں نمودار ہو جاتی ہیں ۔ سچی خوشحالی اور راحت تقویٰ کے بغیر حاصل نہیں ہوتی اور تقویٰ پر قائم ہونا گو یا زہر کا پیالہ پینا ہے مشتقی کے لیے خدا تعالی ساری راحتوں کے سامان مہیا کر دیتا ہے مَنْ يَتَّقِ اللهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقُهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ (الطلاق : ۳، ۴) پس خوشحالی کا اصول تقویٰ ہے لیکن حصول تقویٰ کے لیے نہیں چاہیے کہ ہم شرطیں باندھتے لیے ہیں چاہیے کہ : پھریں۔ تقویٰ اختیار کرنے سے جو مانگو گے وہ ملے گا۔ خدا رحیم و کریم ہے۔ تقویٰ اختیار کرو جو چاہو گے وہ دے گا۔ جس قدر اولیاء اللہ اور اقطاب گذرے ہیں انہوں نے جو کچھ حاصل کیا تقویٰ ہی سے حاصل کیا۔ اگر وہ تقوی اختیار نہ کرتے تو وہ بھی دنیا میں معمولی انسانوں کی حیثیت سے زندگی بسر کرتے۔ دس بیس کی نوکری کر لیتے یا کوئی اور حرفہ یا پیشہ اختیار کر لیتے اس سے زیادہ کچھ نہ ہوتا۔ مگر اب جو عروج ان کو ملا اور جس قدر شہرت اور عزت انہوں نے پائی یہ سب تقوی ہی کی بدولت تھی ۔