ملفوظات (جلد 4) — Page 211
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۱۱ جلد چهارم کرنے کے لئے سنت اللہ اسی طرح جاری ہے کہ ہر صدی پر مجدّد آتا ہے۔ غرض مجھ سے ایک حدیث کے موافق گذشتہ مجدّدوں کا مواخذہ نہیں ہو سکتا۔ میں اپنی صدی کا ذمہ دار ہوں ۔ ہاں چونکہ میں اس حدیث کو صحیح سمجھتا ہوں اور قرآن شریف کی حمایت سے صحیح مانتا ہوں پس اگر یہ لوگ اس حدیث کو جھوٹا کہہ دیں اور حدیث کی کتابوں سے نکال دیں پھر میں خدا سے دعا کروں گا اور یقیناً وہ میری دعا کو سنے گا اور میں کشف سے نام بھی بتا دوں گا۔ لیکن اگر یہ حدیث خود ان کے مسلمات کے موافق ہی جھوٹی نہیں اور نہیں ہے تو پھر خدا سے ڈرو اور لا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ ( بنی اسراءیل: ۳۷) پر عمل کرو اور بیہودہ حیلے اور حجتیں نہ تراشو۔ یہ حدیث جن کتابوں میں درج ہے اور باوجود جھوٹی ہونے کے اس کو رکھا گیا ہے تو پھر کیوں نہیں بابا نانک کے شبدان میں داخل کر لیتے اور موضوعات کے مجموعہ میں لکھ لیتے ۔ پس کسی صورت میں یہ مؤاخذہ مجھ سے نہیں ہو سکتا۔ ہزاروں اولیاء گذر چکے ہیں تو کیا مجھے لازم ہے کہ میں ان کی بھی فہرست دوں۔ یہ خدا تعالیٰ کا ہی علم ہے۔ ہاں خدا نے مجھ پر ظاہر کر دیا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے اور قرآن شریف اس کی تصدیق کرتا ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ مسیح موعود بقول نواب صدیق حسن خان صاحب کے صدی کے سر پر ہوگا اور یہ بھی وہ کہتا ہے کہ چودھویں صدی سے آگے نہ ہوگا مگر اب تو اس صدی سے بیس سال گذر گئے ۔ پانچواں حصہ صدی کا گذر چکا اگر اب تک بھی نہیں آیا تو پھر سو سال تک انتظار کرتے رہیں ۔ اس صدی میں اسلام اہل صلیب سے کچلا جاوے گا۔ جب پچاس سال میں یہ حال ہو گیا ہے کہ تیس لاکھ آدمی مرتد ہو چکے ہیں اور جیسی جیسی شوکت بڑھتی ہے ان کی شوخی بڑھتی گئی ہے۔ یہاں تک کہ امہات المؤمنین جیسی گندی کتاب شائع کی گئی۔ انجمن حمایت الاسلام لاہور نے اس کے خلاف گورنمنٹ کے پاس میموریل بھیجا۔ اس کے میموریل سے پہلے مجھے الہام ہو چکا تھا کہ یہ میموریل بھیجنا بے فائدہ ہے چنانچہ میرے دوستوں کو جو یہاں رہتے ہیں اور ان کو بھی جو دوسرے شہروں میں ہیں معلوم تھا کہ یہ میں نے الہام قبل از وقت ان کو بتادیا تھا آخر وہی ہوا اور گورنمنٹ نے اس پر کوئی کارروائی انجمن کے حسب منشانہ کی ۔ بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ایسا مہدی آنا چاہیے جو جہاد کا فتوئی مہدی اور جہاد دے اور انگریزوں اور دوسری غیر قوموں سے لڑائی کرے۔ میں کہتا ہوں یہ