ملفوظات (جلد 4) — Page 206
ہوتے ہیں کہ وہ ان کو نہیں دیکھتا لیکن معرفت کی خوردبین ان گناہوں کو دکھا دیتی ہے۔غرض اوّل گناہ کا علم عطا ہوتا ہے۔پھر وہ خدا جس نے مَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗ(الزلزال:۸) فرمایا اس کو عرفان بخشتا ہے، تب وہ بندہ خدا کے خوف میں ترقی کرتا اور اس پاکیزگی کو پالیتا ہے جو اس کی پیدائش کا مقصد ہے۔جماعت کے قیام کی غرض اس سلسلہ سے خدا تعالیٰ نے یہی چاہا ہے اور اس نے مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ تقویٰ کم ہوگیا ہے۔بعض تو کھلے طور پر بے حیائیوں میں گر فتار ہیں اور فسق وفجور کی زندگی بسر کرتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو ایک قسم کی ناپاکی کی ملونی اپنے اعمال کے ساتھ رکھتے ہیں مگر انہیں نہیں معلوم کہ اگر اچھے کھانے میں تھوڑا سا زہر پڑ جاوے تو وہ سارا زہریلا ہوجاتا ہے اور بعض ایسے ہیں جو چھوٹے چھوٹے ریاکاری وغیرہ جن کی شاخیں باریک۱ ہیں ان میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔اب اللہ تعالیٰ نے یہ ارادہ کیا ہے کہ دنیا کو تقویٰ اور طہارت کی زندگی کا نمونہ دکھائے۔اسی غرض کے لیے اس نے یہ سلسلہ قائم کیا ہے۔وہ تطہیر چاہتا ہے اور ایک پاک جماعت بنانا اس کامنشا ہے۔ایک پہلو تو میری بعثت اور ماموریت کا یہ ہے۔دوسرا پہلو کسرِ صلیب کا ہے۔کسرِ صلیب کے لیے جس قدر جوش خدا نے مجھے دیا ہے اس کا کسی دوسرے کو علم نہیں ہوسکتا۔صلیبی مذہب نے جو کچھ نقصان عورتوں مَردوں اور جوانوں کو پہنچایا ہے اس کا اندازہ مشکل ہے۔۲ ہر پہلو سے اسلام کو البدر سے۔’’ایک وہ ہیں جوکہ باریک گناہوں کے مرتکب ہیں۔اگرچہ ظاہری طور پر ایک انسان سمجھتا ہے کہ یہ بڑے دیندار ہیں لیکن عُجب اور ریا اور باریک باریک معاصی میں مبتلا ہیں جوکہ عارفانہ خردبین سے نظر آتے ہیں ‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۷مورخہ ۶؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۵۲ ) ۲البدر سے۔’’ پادریوں کا فتنہ کس قدر ہے۔کیا کچھ نقصان انہوں نے اسلام کو پہنچایا ہے۔۳۰ لاکھ سے زیادہ مسلمان ان کے ہاتھوں پر مُرتد ہوچکے ہیں۔ہر گائوں میں ہر ہر محلہ میں انہوں نے ڈیرہ لگایا ہے۔کروڑہارسالہ جات اور کتابیں اسلام کی تردید میں ان کی طرف سے نِکل کر مفت شائع ہوتی ہیں اور یہ اس قسم کے فتنے ہیں کہ اس کی نظیر شروع سے لے کر اب تک کسی زمانہ میں نہیں ملتی اور ان کے حملے مختلف طور پر ہیں۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۷مورخہ ۶ ؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۵۲ )