ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 205 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 205

نہیں ہوتا کہ وہ طبیب کے ساتھ ایک مباحثہ شروع کر دے بلکہ اس کا فرض یہی ہے کہ وہ اپنامرض پیش کرے اور جو کچھ طبیب اس کو بتائے۱ اس پر عمل کرے اس سے وہ فا ئد ہ اُٹھائے گا۔اگراُس کے علاج پر جر ح شروع کر دے تو فائدہ کس طرح ہوگا۔انسان کی پید ائش کی علّتِ غائی انسان کا فرض ہے کہ اس میں نیکی کی طلب صادق ہو اور وہ اپنے مقصدِ زندگی کو سمجھے۔قرآن شریف میں انسان کی زندگی کا مقصدیہ بتا یا گیا ہے مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ (الذاریات :۵۷ ) یعنی جنّ اور انسان کو اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔جب انسان کی پیدائش کی علّتِ غائی یہی ہے تو پھر چاہیے کہ خدا کو شناخت کریں۔جب کہ انسان کی پیدائش کی علّتِ غائی یہ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی عبادت کرے اور عبادت کے واسطے اوّل معرفت کا ہونا ضروری ہے۔جب سچی معرفت ہو جاوے تب وہ اس کی خلاف مرضی کو ترک کرتا اور سچا مسلمان ہو جاتا ہے۔جب تک سچا علم پیدا نہ ہو کوئی مفید نتیجہ پیدا نہیں ہوتا۔دیکھو! جن چنروں کے نقصان کو انسان یقینی سمجھتا ہے ان سے بچتا ہے مثلاً سمّ الفارہے جانتا ہے کہ یہ زہر ہے اس لیے اس کو استعمال کرنے کے لیے جرأت اور دلیری نہیں کرتا کیونکہ جانتا ہے کہ اس کا کھانا موت کے منہ میں جانا ہے۔ایسا ہی کسی زہر یلے سانپ کے بل میں ہاتھ ڈالتا یا طاعون والے گھر میں نہیں ٹھہرتا اگرچہ جانتا ہے کہ جو کچھ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کے منشا سے ہوتا ہے تاہم وہ ایسے مقامات میں جانے سے ڈرتا ہے اب سوال یہ ہے کہ پھر گناہ سے کیوں نہیں ڈرتا؟۲ انسان کے اندر بہت سے گناہ ایسی قسم کے ہیں کہ وہ معرفت کی خوردبین کے سوا نظر ہی نہیں آتے۔جُوں جُوں معرفت بڑھتی ہے انسان گناہوں سے واقف ہوتا جاتا ہے بعض صغائر ایسی قسم کے ۱ البدر سے۔’’اگر علاج اچھا ہو تو اس کے پاس رہے ورنہ نہیں۔کیا اگر ایک بچہ ابتداہی میں اُستاد سے الف پر بحث کرے کہ یہ الف کیوں ہے تو وہ کیا حاصل کرے گا یہ تو بدبختی کی نشانی ہے۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۷ مورخہ ۶ ؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۵۲ ) ۲ البدر سے۔’’صرف یہی ہے کہ اس کو یقین نہیں ہے اور اس کو اس بات کا مطلق علم نہیں کہ گناہ مُہلک ہے‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۷ مورخہ ۶ مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۵۲ )