ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 194 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 194

اپنے تعلقات پیدا کر لیے ہیں۔وہاں کے چند آدمیوں نے مجھے مستعد کیا کہ قادیان جاکر کچھ حالات دیکھ آئیں۔حضرت اقدس۔امرتسر میں آپ کتنے دن ٹھہرے؟ نووارد۔پانچ چھ روز۔حضرت اقدس۔کیا کام تھا؟ نووارد۔محض یہاں کے حالات کا معلوم کرنا اور راستہ وغیرہ کی واقفیت حاصل کرنا۔حضرت اقدس۔کیا آپ کچھ عرصہ یہاں ٹھہریں گے؟ نووارد۔کل جائوں گا۔حضرت اقدس۔آپ دریافت حالات کے لیے آئے اور کل جائیں گے اس سے کیا فائدہ ہوا؟ یہ تو صرف آپ کو تکلیف ہوئی۔دین کے کام میں آہستگی سے دریافت کرنا چاہیے تاکہ وقتاً فوقتاً بہت سی معلومات ہوجائیں۔جب وہاں آپ کے دوستوں نے آپ کو منتخب کیا تھا تو آپ کو یہاں فیصلہ کرنا چاہیے۔جب آپ ایک ہی رات کے بعد چلے جائیں گے تو آپ کیا رائے قائم کرسکیں گے؟ اب ہم نماز پڑھ کر چلے جائیں گے۔آپ کو کوئی موقع ہی نہ ملا۔اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ (التوبۃ:۱۱۹) کہ صادقوں کے ساتھ رہو یہ معیت چاہتی ہے کہ کسی وقت تک صحبت میں رہے کیونکہ جب تک ایک حد تک صحبت میں نہ رہے وہ اسرار اور حقائق کُھل نہیں سکتے۔وہ اجنبی کا اجنبی رہے گا اور بیگانہ ہی رہتا ہے اور کوئی رائے قائم کرنے کے قابل نہیں ہوسکتا۔نووارد۔میں جو پوچھوں گا اس کا آپ جواب دے دیں۔اس سے ایک رائے قائم ہوسکتی ہے۔جن لوگوں نے مجھے بھیجا ہے انہوں نے تقیہ۱ تو کیا نہیں کہ جاکر کیا دیکھوں۔آپ چونکہ ہمارے مذہب میں ہیں اور آپ نے ایک دعویٰ کیا ہے اس کا دریافت کرنا ہم پر فرض ہے۔۱ اغلباً یہ لفظ تقید ہے جو سہو کتابت سے تقیہ لکھا گیا ہے البدر میں اس کا ذکر یوں ہے کہ ’’اگر چہ وہ لوگ جن کی طرف سے میں آیا ہوں آپ کا ذکر ہنسی اور تمسخر سے کرتے ہیں مگر میرا یہ خیال نہیں ہے‘‘ (البدر جلد ۲نمبر ۶مورخہ ۲۷ ؍فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۴۴ )