ملفوظات (جلد 4) — Page 187
کھا لیوے تو کیا وہ بھوک سے نجات پائے گا؟ ہرگزنہیں۔اور اگر وہ ایک قطرہ پانی کا اپنے حلق میں ڈالے تو وہ قطرہ اسے ہرگز بچا نہ سکے گا بلکہ باوجود اس قطرے کے وہ مَرے گا۔حفظِ جان کے واسطے وہ قدر ِ محتاط جس سے زندہ رہ سکتا ہے جب تک نہ کھاوے اور نہ پیوے نہیں بچ سکتا۔یہی حال انسان کی دینداری کا ہے جب تک اس کی دینداری اس حد تک نہ ہو کہ سیری ہو بچ نہیں سکتا۔دینداری، تقویٰ، خدا کے احکام کی اطاعت کواس حد تک کرنا چاہیے جیسے روٹی اور پانی کو اس حد تک کھاتے اور پیتے ہیں جس سے بھوک اور پیاس چلی جاتی ہے۔خوب یاد رکھنا چاہیے کہ خدا کی بعض باتوں کو نہ ماننا اس کی سب باتوں کو ہی چھوڑدینا ہوتا ہے اگر ایک حصہ شیطان کا ہو اور ایک خدا کا تو خدا کہتا ہے کہ سب ہی شیطان کا ہے۔اللہ تعالیٰ حصہ داری کو پسند نہیں کرتا۔یہ سلسلہ اس کا اسی لیے ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی طرف آوے۔اگرچہ خدا کی طرف آنا بہت مشکل ہوتا ہے اور ایک قسم کی موت ہے مگر آخر زندگی بھی اسی میں ہے۔جو اپنے اندر سے شیطانی حصہ نکال کر باہر پھینک دیتا ہے وہ مبارک انسان ہوتا ہے اور اس کے گھر اور نفس اور شہر سب جگہ اس کی برکت پہنچتی ہے۔لیکن اگر اس کے حصہ میں ہی تھوڑا آیا ہے تو وہ برکت نہ ہو گی جب تک بیعت کا اقرار عملی طور پر نہ ہو بیعت کچھ چیز نہیں ہے۔جس طرح سے ایک انسان کے آگے تم بہت سی باتیں زبان سے کرو مگر عملی طور پر کچھ بھی نہ کرو تو وہ خوش نہ ہوگا۔اسی طرح معاملہ خدا کا ہے وہ سب غیرت مندوں سے زیادہ غیرت مند ہے۔کیا یہ ہوسکتا ہے کہ ایک تو تم اس کی اطاعت کرو پھر ادھر اس کے دشمنوں کی بھی اطاعت کرو اس کانام تو نفاق ہے۔انسان کو چاہیے کہ اس مرحلہ میں زید و بکر کی پروا نہ کرے۔مَرتے دم تک اس پر قائم رہو۔بدی کی دو قسمیں ہیں۔ایک خدا کے ساتھ شرک کرنا۔اس کی عظمت کو نہ جاننا۔اُس کی عبادت اوراطاعت میں کسل کرنا۔دوسری یہ کہ اس کے بندوں پر شفقت نہ کرنی۔ان کے حقوق ادانہ کرنے۔اب چاہیے کہ دونوں قسموں کی خرابی نہ کرو۔خدا کی اطاعت پر قائم رہو۔جو عہد تم نے بیعت میں کیا ہے اس پر قائم رہو خدا کے بندوں کو تکلیف نہ دو۔قرآن کو بہت غور سے پڑھو۔اس پر عمل کرو۔ہر ایک