ملفوظات (جلد 4) — Page 186
اس کا ایک اور فقرہ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا۔مورخہ۴؍ فروری کی سیر میں آپ نے یاد آنے پر بتلایا۔۱ مورخہ ۳؍ فروری کو حضرت اقدس نے یہ الہام سیر میں سنایا جو کہ درج ہونے سے رہ گیا تھا بَرَزَ مَا عِنْدَ ھُمْ مِّنَ الرِّمَاحِ (جس قدر تیر ان کے پاس تھے وہ اب نکال لئے گئے)۔۲ ۴؍ فروری ۱۹۰۳ء مورخہ ۴؍فروری ۱۹۰۳ء کو آپ نے سیر میں فرمایا رات کو یہ الہام ہوا ہے۔ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّكَانُوْا يَعْتَدُوْنَ۔۳ ۵؍فروری ۱۹۰۳ء اپنی جماعت کے لئے ایک بہت ضروری نصیحت آج کل زمانہ بہت خراب ہو رہا ہے قسم قسم کی شرک، بدعت اور خرابیاںپیدا ہو گئی ہیں۔بیعت کے وقت جو اقرار کیا گیا ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔یہ اقرار خدا کے سامنے اقرار ہے۔اب چاہیے کہ اس پر موت تک خوب قائم رہو ورنہ سمجھو کہ بیعت نہیں کی اور اگر قائم رہو گے تو اللہ تعالیٰ دین، دنیا میں برکت دے گا۔اپنے اللہ کے منشا کے موافق پوری پوری تقویٰ اختیار کرو۔زمانہ نازک ہے۔قہر الٰہی نمودار ہو رہا ہے جو اللہ تعالیٰ کی مرضی کے موافق اپنے آپ کو بنا لے گا وہ اپنی جان اور اپنی آل واولادپر رحم کرے گا۔دیکھو! انسان روٹی کھاتا ہے جب تک سیری کے موافق پوری مقدارنہ کھاوے تو اس کی بھوک نہیں جاتی۔اگر وہ ایک بھورہ روٹی کا ۱ البدرجلد ۲ نمبر ۳ مورخہ ۶؍ فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۳ ۲ البدر جلد ۲ نمبر ۴ مورخہ ۱۳؍ فروری ۱۹۰۳ء صفحہ۲۵ ۳ البدرجلد ۲ نمبر ۳ مورخہ ۶؍ فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۳