ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 184 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 184

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۸۴ جلد چهارم فرمایا۔ ایک الہام ۳۰ جنوری ۱۹۰۳ کی صبح کو جو الہام ہوا تھ کو جو الہام ہوا تھا لا يَمُوتُ أَحَدٌ مِنْ رِجَالِكُمْ لاس کے معنی ابھی نہیں کھلے ۔ مگر یہاں حقیقی معنی تو موت کے نہیں ہو سکتے کیونکہ انبیاء پر بھی یہ آئی ہے۔ غالباً اور کوئی معنی ہوں گے۔ یکم فروری ۱۹۰۳ء امتحان کے وقت جماعت کو استقامت کی بہت دعا کرنی چاہیے آپ نے فرمایا کہ یہ وقت جماعت کے امتحان کا ہے۔ دیکھیں کون ساتھ دیتا ہے اور کون پہلو تہی کرتا ہے۔ اس لیے ہمارے بھائیوں کو استقامت کی بہت دعا کرنی چاہیے اور انفاق فی سبیل اللہ کے لیے وسیع حوصلہ ہو کر مال وزر سے ہر طرح سے امداد کے لیے طیار ہونا چاہیے ۔ ایسے ہی وقت ترقی درجات کے ہوتے ہیں۔ ان کو ہاتھ سے نہ گنوانا چاہیے۔ سے البدر میں مذکورہ الہام کی تشریح کرتے ہوئے کچھ مزید فقر ے درج ہیں وہاں لکھا ہے۔ دو عشاء سے قبل حضرت اقدس نے یہ الہام سنایا ۔ لا يَمُوتُ أَحَدٌ مِنْ رِجَالِكُمْ اور فرمایا کہ اس کے حقیقی معنے کہ تمہارے رجال میں کوئی نہ مرے گا تو ہو نہیں سکتے کیونکہ موت تو انبیاء تک کو آتی ہے اور نہ قیامت تک کسی نے زندہ رہنا ہے مراس۔ ا ہے مگر اس کے مفہوم کا پتا نہیں ہے۔ شاید کوئی اور معنے ہوں ۔ البدر جلد ۲ نمبر ۳ مورخه ۶ رفروری ۱۹۰۳ ء صفحه (۲۴) الحکم جلدے نمبر ۶ مورخہ ۱۴ فروری ۱۹۰۳ ء صفحه ۵ تا۷ سے الحکم میں فروری کی ڈائری بغیر تاریخ کے درج ہے۔ البدر میں درج شدہ یکم فروری کی ڈائری کے مضمون سے اس کی مطابقت ظاہر کرتی ہے کہ یہ ڈائری یکم فروری کی ہے۔ لکھا ہے۔ فرمایا۔ براہین میں یہ بھی الہام ہے اِذا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ وَتَمَّتْ كَلِمَاتُ رَبِّكَ وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ ۔ ہماری جماعت پر بھی ایک فتنہ ہے۔ صحابہ پر بھی فتنہ ہوا۔ مگرفتنہ کا پتا نہیں کہ کون سا فتنہ ہے اور کس راہ کا ہے۔ مگر جب انسان خدا کا ہو جاوے