ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 178 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 178

۳۱ ؍جنو ری ۱۹۰۳ء ( بوقتِ عصر۱) جہلم سے خبر آئی کہ کر م دین نے حضرت اقدس پر ایک اور مقدمہ مواہب الر حمٰن کے بعض الفاظ کی بنا پر کیا ہے۔فرما یا۔اب یہ ان لوگوں کی طرف سے ابتدا ہے کیا معلوم کہ خدا تعالیٰ ان کے مقابلہ میں کیا کیا تدبیر اختیار کرے گا۔یہ استغاثہ ہم پر نہیں اللہ تعالیٰ پر ہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ مقدمات کرکے تھکانا چاہتے ہیں۔الہام اِنَّ اللہَ مَعَ عِبَادِہٖ یُوَاسِیْکَ اسی کے متعلق اجتہادی طور پر معلوم ہوتا ہے اور ایسا ہی الہام سَاُکْرِمُکَ اِکْرَامًا عَـجَبًا۔خدا زور آور حملوں سے سچائی ظاہر کر دے گا فرمایا۔ہما ری جماعت ایمان تو لاتی ہے مگر اصل میں مدار ایمان نشانوں پر ہوتا ہے۔اگرچہ انسان محسوس نہ کرے مگر اس کے اندر بعض کمزوریاں ضرور ہوتی ہیں اور جب تک وہ کمزوریاں دور نہ ہوں اعلیٰ مراتبِ ایمانی نہیں مل سکتے اور یہ کمزوریاں نشانات ہی کے ذریعہ دور ہوتی ہیں اور اب خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ اپنے نشانوں سے ان کمزوریوں کو دور کرے اور جماعت اپنے ایمان میں ترقی کرے اب وہ وقت آگیا ہے کہ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى نَصْرِهِمْ لَقَدِيْرٌ (الـحج:۴۰) کا نمونہ دکھائے۔اللہ تعالیٰ کی نظر سے صادق اور کاذب، خائن اور مظلوم پوشیدہ نہیں ہیں اب ضروری ہے کہ سب گروہ متفق ہو کر میرے استیصال کے درپے ہوں جیسے جنگ احزاب میں ہوئے تھے جو کچھ ہو رہا ہے یہ سب خدا تعالیٰ نے چاہا ہے۔میں نے جو خواب میں دیکھا کہ دریائے نیل کے کنارہ پر ہوں اور بعض چلّائے کہ ہم پکڑے گئے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی ایسا وقت بھی آوے جب جماعت کو کوئی یاس ہو مگر میں یقین رکھتا ہوں کہ خدا زور آور حملوں سے ۱ الحکم میں درج نہیں کہ یہ ڈائری کس وقت کی ہے لیکن البدر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عصر کے وقت کی ڈائری ہے۔(ملاحظہ ہو البدر جلد ۲ نمبر ۷ مورخہ ۶؍ مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۵۰ )