ملفوظات (جلد 4) — Page 178
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۷۸ جلد چهارم ۳۱ جنوری ۱۹۰۳ء (بوقت عصر ) جہلم سے خبر آئی کہ کرم دین نے حضرت اقدس پر ایک اور مقدمہ مواہب الرحمٰن کے بعض الفاظ کی بنا پر کیا ہے۔ فرمایا۔ اب یہ ان لوگوں کی طرف سے ابتدا ہے کیا معلوم کہ خدا تعالیٰ ان کے مقابلہ میں کیا کیا تدبیر اختیار کرے گا۔ یہ استغاثہ ہم پر نہیں اللہ تعالیٰ پر ہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ مقدمات کر کے تھکانا چاہتے ہیں۔ الہام اِنَّ اللهَ مَعَ عِبَادِهِ يُوَاسِيكَ اس کے متعلق اجتہادی طور پر معلوم ہوتا ہے اور ایسا ہی الہام سَأُكْرِمُكَ إِكْرَامًا عَجَبًا ۔ فرمایا۔ خداز ورآور حملوں سے سچائی ظاہر کر دے گا ہماری جماعت ایمان تو لاتی ہے مگر اصل میں مدار ایمان نشانوں پر ہوتا ہے۔ اگر چہ انسان محسوس نہ کرے مگر اس کے اندر بعض کمزوریاں ضرور ہوتی ہیں اور جب تک وہ کمزوریاں دور نہ ہوں اعلیٰ مراتب ایمانی نہیں مل سکتے اور یہ کمزوریاں نشانات ہی کے ذریعہ دور ہوتی ہیں اور اب خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ اپنے نشانوں سے ان کمزوریوں کو دور کرے اور جماعت اپنے ایمان میں ترقی کرے اب وہ وقت آگیا ہے کہ اِنَّ اللهَ عَلَى نَصْرِهِم لقدير (الحج:۴۰) کا نمونہ دکھائے ۔ اللہ تعالیٰ کی نظر سے صادق اور کاذب ، خائن اور مظلوم پوشیدہ نہیں ہیں اب ضروری ہے کہ سب گروہ متفق ہو کر میرے استیصال کے درپے ہوں جیسے جنگ احزاب میں ہوئے تھے جو کچھ ہو رہا ہے یہ سب خدا تعالیٰ نے چاہا ہے۔ میں نے جو خواب میں دیکھا کہ دریائے نیل کے کنارہ پر ہوں اور بعض چلائے کہ ہم پکڑے گئے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی ایسا وقت بھی آوے جب جماعت کو کوئی پاس ہو مگر میں یقین رکھتا ہوں کہ خدا زور آور حملوں سے الحکم میں درج نہیں کہ یہ ڈائری کسی وقت کی ہے لیکن البدر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عصر کے وقت کی ڈائری ہے۔ ( ملاحظہ ہوا لبدر جلد ۲ نمبرے مورخہ ۶ / مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۵۰)