ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 174 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 174

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۷۴ جلد چهارم الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ (التین: ۵) جو انسان خدائی اخلاق اختیار کرتے ہیں وہ اس آیت سے مراد ہیں اور اگر گھر کرے تو پھر اَسْفَلَ السَّافِلِينَ اس کی جگہ ہے۔ وجودیوں سے جب بحث کا اتفاق ہو تو اول ان سے خدا کی تعریف پوچھنی چاہیے کہ خدا کسے کہتے ہیں؟ اور اس میں کیا صفات ہیں۔ وہ مقرر کر کے پھر ان سے کہنا چاہیے کہ اب ان سب باتوں کا تم اپنے اندر ثبوت دو ۔ یہ نہیں کہ جو وہ کہیں وہ سنتے چلے جاؤ اور ان کے بیچ میں آجاؤ بلکہ سب سے اوّل ایک معیار خدائی قائم کرنا چاہیے بعض ان میں سے کہا کرتے ہیں کہ ابھی ہمیں خدا بننے میں کچھ کسر ہے تو کہنا چاہیے کہ تم بات نہ کرو جو کامل ہو گزرا ہے اسے پیش کرو۔ یہ ایک ملحد قوم ہے۔ تقویٰ ، طہارت، صحت نیت، پابندی احکام بالکل نہیں ۔ تلاوت قرآن نہیں کرتے ہمیشہ کافیاں پڑھتے ہیں۔ اسلام پر یہ بھی ایک مصیبت ہے کہ آج کل جس قدر گدی نشین ہیں وہ تمام قریب قریب اس وجودی مشرب کے ہیں۔ سچی معرفت اور تقویٰ کے ہرگز طالب نہیں ہیں۔ اسی مذہب میں دوشے خدا کے بہت مخالف پڑی ہیں ایک تو کمزوری دوسری نا پا کی ۔ یہ دونوں خدا میں نہیں ہیں اور سب وجود یوں میں پائی جاتی ہیں۔ لطف کی بات ہے کہ جب کسی وجودی کو کوئی بیماری سخت مثل قولنج وغیرہ کے ہو تو اس وقت وہ وجودی نہیں ہوا کرتا۔ پھر اچھا ہو جاوے تو یہ خیال آیا کرتا ہے کہ میں خدا ہوں۔ لے ۲۹ جنوری ۱۹۰۳ء پنجشنبه ( بوقت سیر ) جھوٹ چونکہ آج کل اس الہی سلسلہ کے دشمنوں کی عام عادت ہو گئی ہے۔ اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ له جھوٹ جیسا لعنتی کام اور کوئی نہیں اور پھر خصوصاً وہ جھوٹ جو کہ آبرو، عزت وغیرہ پر ہوتا ہے جس پیٹ سے ایسی ایسی باتیں نکلا کرتی ہیں اسے نفس کہتے ہیں۔ اس کے بعد اسی آبرو کے مضمون پر حضرت اقدس نے اپنے خون کے دشمن کی آبروداری مقدمہ میں ایک واقعہ بیان کیا۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو البدر جلد ۲ نمبرے مورخہ ۶ / مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۴۹