ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 172 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 172

ملفوظات حضرت مسیح موعود کام دعاؤں نے ہی کیا ہے۔ ۱۷۲ جلد چهارم عورتوں کے لیے یہ ولادت کا وقت ایک پہلو سے موت اور ایک پہلو سے زندگی ہوتی ہے گویا ولادت کے وقت ان کی اپنی بھی ایک نئی ولادت ہوتی ہے۔ گھر میں بھی رات کو ایک خواب دیکھا کہ بچہ ہوا ہوا ہے تو اُنہوں نے مجھے کہا کہ میری طرف سے بھی نفل پڑھنا اور اپنی طرف سے بھی۔ پھر ڈاکٹرنی کو کہا کہ ذرا اسے لو تو اُس نے جواب دیا کہ لوں کسے وہ تو مردہ ہے۔ تو انہوں نے کہا کہ اچھا پھر مبارک کا قدر قائم رہے گا۔ میں نے اس کی یہ تعبیر کی کہ لڑکی اصل میں زندہ بدست مردہ ہی ہوا کرتی ہے۔ آج صبح کو الہام ہو ا سا كُرِمُكَ إِكْرَامًا عَجَبًا اس کے بعد ایک الہام اور ایک خواب تھوڑی سی غنودگی میں ایک خواب بھی دیکھا کہ ایک چوغہ سنہری بہت خوبصورت ہے۔ میں نے کہا کہ عید کے دن پہنوں گا ۔ اس الہام میں عجب کا لفظ بتلاتا ہے کہ کوئی نہایت ہی مؤثر بات ہے۔ میں نے یہی سمجھا کہ چونکہ رات کو بہت منذر الہام ہوا تھا وہ تو پورا ہو گیا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ اس کے بالمقابل بشارت دیتا ہے۔ کیسی رحیم کریم ذات ہے ۔ رات میں نے ایک اور خواب بھی دیکھا کہ میں جہلم میں ہوں خواب اور ان کی تعبیریں اور سنسار چند صاحب کے کمرے میں ہوتا ہوا آگے کوٹھی کے ایک اور کمرہ کی طرف جارہا ہوں ۔ رؤیا کے معاملات میں انسانی عقل بالکل اندھی ہے لڑکی دیکھے تو لڑکا ہوتا ہے۔ اسی لیے معبروں نے باب بالعکس کا بھی باندھا ہے۔ ہمارے مخالف تمام باتوں کو ظواہر پر حمل کر لیتے ہیں ۔ ورنہ وہ خدا کی عجیب در عجیب باتوں کو دیکھیں ۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک شخص قولنج کی بیماری میں مبتلا تھا اسے خواب میں کسی نے دیکھا کہ وہ مر گیا ہے۔ میں نے اس کی تعبیر کی کہ وہ اچھا ہو جاوے گا آخر وہ اچھا ہو گیا۔ مقدمات کے ذکر پر فرمایا کہ حاکم بیچارے کیا کریں وہاں تو خدا پکڑ کر سب کچھ کرواتا ہے اصل میں خدا ہی خدا ہے وہ جب