ملفوظات (جلد 4) — Page 170
کردیویں گے۔اگر گذشتہ پیشگوئیوں کے پہلو کو نہ لیویں تو خدا تعالیٰ قادر ہے کہ آئندہ اَور نشانات دکھلادیوے۔راستہ میں فرمایا کہ کل جو خواب مولوی محمد احسن صاحب کے دوا بتلانے کی نسبت بیان کیا تھا میں نے اُسی کے مطابق رات کو جائفل اور سونٹھ منہ میں رکھا۔اب کھانسی کو اس سے بہت فائدہ معلوم ہوتا ہے۔۱ ۲۸؍جنوری ۱۹۰۳ء مورخہ ۲۷ و ۲۸؍جنوری کے درمیان جو رات تھی۔اس میں رات کو ایک بجے حضرت اقدسؑ مولانا مولوی محمد احسن صاحب امروہی کی کوٹھڑی میں تشریف لائے۔دروازہ بند تھا۔آپ نے کھٹکھٹایا مولوی صاحب نے لاعلمی سے پوچھا کہ کون ہے؟ حضرت اقدس نے جواب دیا کہ ’’مَیں ہوں غلام احمد ‘‘۲ آپ کے دستِ مبارک میں لالٹین تھی آپ نے اندر داخل ہوکر فرمایا کہ اس وقت مجھے اوّل ایک کشفی صورت میں خواب کے ذریعہ سے دکھلایا گیا ہے کہ میرے گھر میں (یعنی اُمّ المومنین) کہتے ہیں کہ اگر میں فوت ہوجائوں تو میری تجہیز و تکفین آپ خود اپنے ہاتھ سے کرنا۔اس کے بعد مجھے ایک بڑا منذر الہام ہوا ہے غَاسِقُ اللہِ۔مجھے اس کے یہ معنے معلوم ہوئے ہیں کہ جو بچہ میرے ہاں پیدا ہونے والا ہے وہ زندہ نہ رہے گا۔اس لیے آپ بھی دعا میں مشغول ہوں اور باقی احباب کو بھی اطلاع دے دیویں کہ دعائوں میں مشغول ہوں۔۳ (مجلس قبل از عشاء) الہام غَاسِقُ اللہِکی شرح غَاسِقُ اللہِ الہام کی شرح آپ نے فرمائی اور فرمایا کہ غاسق عربی میں تاریکی کو کہتے ہیں جو کہ بعد زوال شفق اوّل رات ۱ البدر جلد ۲ نمبر ۶ مورخہ ۲۷؍فروری ۱۹۰۳ءصفحہ ۴۳ ۲ ’’اس وقت اس اخلاق نے مولوی صاحب کے دل پر کیا اثر کیا ہوگا اس کا اندازہ ناظرین خود کرلیویں ‘‘(نوٹ از ایڈیٹر البدر) ۳البدر جلد ۲ نمبر ۱،۲ مورخہ ۲۳،۳۰ جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۷،۸حاشیہ