ملفوظات (جلد 4) — Page 169
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۶۹ جلد چهارم اگر اس پر اعتراض ہو کہ اور لوگوں کو کیوں خواہیں آتی ہیں جو کہ سچی بھی نکلتی ہیں حتی کہ ہندوؤں میں بھی اور فاسق سے فاسق گروہ کنجروں میں بھی دیکھا جاتا ہے کہ بعض اوقات ان کی خواہیں سچی نکلی ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ نبوت کے سلسلہ کی تائید ہو۔ کیونکہ اگر ایسے حواس عالم میں نہ ہوتے تو پھر امر نبوت مشتبہ ہو جا تا ایک نابینا آفتاب کو کیسے شناخت کر سکتا ہے؟ وہی شناخت کرے گا جسے کچھ بینائی ہو چونکہ خدا کو منظور تھا کہ اتمام حجت ہو اس لیے یہ خواب کا سلسلہ سب جگہ رکھ دیا ہے تا کہ قبولیت کا مادہ ہر ایک جگہ موجود ر ہے اور ان کو انکار نہ کرنے دیوے۔ لیکن جو مادہ نبی کا ہوتا ہے اس کی شان اور ہوتی ہے اور اسے موہبت اور بہت سی موتوں کے بعد طیار کیا جاتا ہے۔ اے کے ۲۷ جنوری ۱۹۰۳ء ( بوقت سیر ) حضرت اقدس نے مخالفین کی نسبت فرمایا کہ میں نے اب ان سے اعراض کر لیا ہے کیونکہ جواب تو اس کے لیے ہوتا ہے جس میں کوئی ذرہ تقویٰ کا ہومگر جس حال میں کہ ان کے پاس اب سب وشتم ہی ہے تو اب حوالہ بخدا ۔ کیا اچھا طریق امن کا ہم نے پیش کیا ہے کہ شرافت سے آکر اپنے شبہات دور کراویں۔ ہمارے مہمان خانہ میں خواہ چھ ماہ رہیں ہم دعوت دیویں گے مگر جو شخص اوّل سے ہی عزم بالجزم کر کے آتا ہے کہ اسے شرارت سے باز نہ آوے گا اسے ہم کیا کریں۔ میرا ہمیشہ ہی خیال ہوتا ہے کہ کوئی گروہ نیک نیتی سے آوے اور مستفید ہو۔ ازالہ شبہات کی نیت ہو۔ ہار جیت کا خیال نہ ہو۔ نیک نیتی تو عجیب شے ہے کہ اس کی فوراً بو آ جاتی کا ہے اور جب جواب کافی ملے تو نیک نیت تو اسی وقت اس کی خوشبو پا کر بحث سے دستبردار ہو جاتا ہے۔ اور ہم خاص پیشگوئیوں پر بھی حصر نہیں رکھتے ۔ کوئی پہلو اس سلسلہ کالے لیو یں ۔ ہم ازالہ شبہات لے الحکم میں ہے۔ فرمایا۔ ہمارے الہامات میں جو نبی آیا ہے تو یہ شرطیں رکھتا ہے ۔ اول یہ کہ نئی شریعت نہیں لایا دوسرے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطہ سے ہے۔“ (الحکم جلدے نمبر ۵ رے نمبر ۵ مورخہ ۷ رفروری ۱۹۰۳ ء صفحه (۱۴) ۲ البدر جلد ۲ نمبر ۶ مورخه ۲۷ فروری ۱۹۰۳ ء صفحه ۴۲