ملفوظات (جلد 4) — Page 168
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۶۸ جلد چهارم (بعد از عشاء) نماز پڑھ کر حضرت اقدس نے کھڑے ہو کر مکالمہ نبوت پر یہ تقریر کی اور مثال دے کر فرمایا کہ جب تک کہ یہ فرق نہ ہو تب تک کیسے پتا لگ سکتا ہے۔ اب دیکھو جس کے پاس ایک دو روپیہ ہوں اور اُدھر بادشاہ ہے کہ اس کے پاس خزانے بھرے ہوئے ہیں تو ان دونوں میں فرق ہوگا کہ نہیں؟ اگر چہ زردار وہ بھی ہے اور بادشاہ بھی ہے مگر جس کے پاس ایک دو روپے ہوں اسے بادشاہ کوئی نہ کہے گا۔ اسی طرح فرق تو کثرت کا ہے اور اس کے ساتھ کیفیت اور کمیت کا بھی ۔ نبوت کا مکالمہ اس قدر اجلی اور اصفی ہوتا ہے کہ ہر ایک بشریت اسے برداشت نہیں کر سکتی مگر وہ جو اصطفا کے درجہ تک ہو فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَسُولٍ (الجن: ۲۸،۲۷) ۔ اللہ تعالیٰ اپنی رضا مندی اس طرح سے بار بار ظاہر کرتا ہے کہ اول ایک امر کو خواب میں دکھاتا ہے پھر اسے کشف میں ۔ پھر اس کے مطلق وحی ہوتی ہے اور پھر وحی کی تکرار ہوتی رہتی ہے حتی کہ وہ امر غیب اس کے لیے مشہودہ اور محسوسہ امور میں داخل ہو جاتا ہے اور جس قدر تکرار ایک ملہم کے نفس میں ہوتا ہے اسی قدر تکرار اس کے مکالمہ میں ہوا کرتا ہے اور اصفی اور اجلی مکالمہ انہی لوگوں کا ہوتا ہے جو اعلیٰ درجہ کا تزکیہ نفس کرتے ہیں اس لیے تقویٰ اور طہارت کی بہت ضرورت ہے۔ اسی لیے خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَبَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا ( فاطر : (۳۳) ہم نے کتاب کا وارث اپنے بندوں میں سے ان کو بنایا جن کو ہم نے چن لیا۔ یعنی ان لوگوں کی یہ حالت ہوتی ہے کہ جیسے ایک مکان کی گل کھڑکیاں کھلی ہیں کہ کوئی گوشہ تاریکی کا اُس میں نہیں اور روشنی خوب صاف اور کھلی آرہی ہے۔ اسی طرح ان کے مکالمہ کا حال ہوتا ہے کہ انہیں اور اجلی اور کثرت سے ہوتا ہے۔ جیسے ایک تیل ادنیٰ قسم کا ہوتا ہے کہ دھواں اور بد بو بہت دیتا ہے۔ دوسرے اُس سے اچھا۔ یہی فرق مکالمہ کی کیفیت اور کثرت اور صفائی میں ہوتا ہے۔ کیا ایک لوٹہ کو حق پہنچتا ہے کہ اپنے اندر تھوڑا سا پانی رکھ کر کہے کہ میں بھی سمندر ہوں کیونکہ اس میں بھی پانی ہی ہوتا ہے۔ حالانکہ کس قدر فرق ہے سمندر میں جو پانی کی کثرت ہوتی ہے اس کو لوٹے سے کیا نسبت ؟ پھر اس میں موتی ، سیپ اور ہزار ہا قسم کے جانور ہوتے ہیں۔