ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 168 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 168

(بعد از عشاء ) نماز پڑھ کر حضرت اقدس نے کھڑے ہو کر مکالمہ نبوت پر یہ تقریر کی اور مثال دے کر فرمایا کہ جب تک کہ یہ فرق نہ ہو تب تک کیسے پتا لگ سکتا ہے۔اب دیکھو جس کے پاس ایک دو روپیہ ہوں اور اُدھر بادشاہ ہے کہ اس کے پاس خزانے بھرے ہوئے ہیں تو ان دونوں میں فرق ہوگا کہ نہیں؟ اگرچہ زردار وہ بھی ہے اور بادشاہ بھی ہے مگر جس کے پاس ایک دو روپے ہوں اسے بادشاہ کوئی نہ کہے گا۔اسی طرح فرق تو کثرت کا ہے اور اس کے ساتھ کیفیت اور کمیت کا بھی۔نبوت کا مکالمہ اس قدر اجلٰی اور اصفٰی ہوتا ہے کہ ہر ایک بشریت اسے برداشت نہیں کرسکتی مگر وہ جو اصطفا کے درجہ تک ہو فَلَا يُظْهِرُ عَلٰى غَيْبِهٖۤ اَحَدًا اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ (الـجنّ:۲۷،۲۸)۔اللہ تعالیٰ اپنی رضا مندی اس طرح سے بار بار ظاہر کرتا ہے کہ اول ایک اَمر کو خواب میں دکھاتا ہے پھر اسے کشف میں۔پھر اس کے مطلق وحی ہوتی ہے اور پھر وحی کی تکرار ہوتی رہتی ہے حتی کہ وہ اَمر غیب اس کے لیے مشہودہ اور محسوسہ امور میں داخل ہوجاتا ہے اور جس قدر تکرار ایک ملہم کے نفس میں ہوتا ہے اسی قدر تکرار اس کے مکالمہ میں ہوا کرتا ہے اور اصفٰی اور اجلٰی مکالمہ انہی لوگوں کا ہوتا ہے جو اعلیٰ درجہ کا تزکیہ نفس کرتے ہیں اس لیے تقویٰ اور طہارت کی بہت ضرورت ہے۔اسی لیے خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا ( فاطر: ۳۳) ہم نے کتاب کا وارث اپنے بندوں میں سے ان کو بنایا جن کو ہم نے چُن لیا۔یعنی ان لوگوں کی یہ حالت ہوتی ہے کہ جیسے ایک مکان کی کُل کھڑکیاں کھلی ہیں کہ کوئی گوشہ تاریکی کا اُس میں نہیں اور روشنی خوب صاف اور کھلی آرہی ہے۔اسی طرح ان کے مکالمہ کا حال ہوتا ہے کہ انہیں اور اجلٰی اور کثرت سے ہوتا ہے۔جیسے ایک تیل ادنیٰ قسم کا ہوتا ہے کہ دُھواں اور بدبُو بہت دیتا ہے۔دوسرے اُس سے اچھا۔یہی فرق مکالمہ کی کیفیت اور کثرت اور صفائی میں ہوتا ہے۔کیا ایک لوٹہ کو حق پہنچتا ہے کہ اپنے اندر تھوڑا سا پانی رکھ کر کہے کہ میں بھی سمندر ہوں کیونکہ اس میں بھی پانی ہی ہوتا ہے۔حالانکہ کس قدر فرق ہے سمندر میں جو پانی کی کثرت ہوتی ہے اس کو لوٹے سے کیا نسبت؟ پھر اس میں موتی، سیپ اور ہزار ہا قسم کے جانور ہوتے ہیں۔