ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 159 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 159

ذکر تھا کہ اس مقدمہ میں ہماری فتح ہے وہی خدا اب بھی ہمارے ساتھ ہے۔؎ ہر بلا کیں قوم راحق دادہ است زیر آں گنجِ کرم بنہادہ است خدا کی معرفت ضروری ہے ایک اخبار کی نسبت ذکر ہوا کہ مقدمہ کا نتیجہ قبل از وقت شائع کرنا دور اندیشی پر دلالت نہیں کرتا۔فرمایا کہ جب یہ لوگ خدا کے قائل نہیں تو الہام کے کب قائل ہوں گے؟ ان لوگوں کو بے عقل بھی نہیں کہنا چاہیے بلکہ ان میں نور ایمان نہیں ہے کیا وہ کسی ایسے مفتری و کذّاب کی نظیرپیش کرسکتے ہیں کہ اس کی مخالفت پر ناخنوں تک زور لگایا گیا ہو اور ہمیشہ قبل از وقت اپنے افترا شائع کرتا رہا ہو اور پھر وہ اپنے وقت پر پورے ہوتے رہے ہوں بتلاویں تو سہی جس شدّ ومد سے ہم نے خبریں قبل از وقت پیش کی ہیں کسی اور نے بھی کیں ہیں۔ان لوگوں کے اعمال کا کوئی فائدہ نہیں ہے جب تک خدا پر یقین نہ ہو۔خدا کی معرفت ضروری ہے کوئی آسمانی اَمر ان کے نزدیک عظمت کے قابل نہیں ہے تعجب آتا ہے کہ ایک طرف طاعون کا یہ حال ہے اور ایک طرف دلوں کی یہ سختی۔کوئی اور برتن ہو تو انسان اس میں ہاتھ ڈال کر صاف بھی کرلے مگر ان کے دلوں کے برتن جن کے اندر زنگار بھرا ہوا ہے کیسے صاف ہوں۔عجب معاملہ ہے جس قدر ہمیں ان پر حسرت ہوتی ہے اسی قدر ان کو نفرت اور بغض اور جوش بڑھتا ہے۔جیسے کوئی آدمی جس کا معدہ بلغم یا صفراسے بھرا ہوا ہو تو اسے کھانا کھانے سے تنفر ہوتا ہے کہ وہ کھانے کا نام سن کر بھی برداشت نہیں کرسکتا اور اس کا جی بیزار ہوتا ہے یہی حال ان کا ہے سچی بات کا نام تک نہیں سن سکتے کس کس کی شکایت کریں سب ایک ہی ہیں۔مجھے خوب یاد ہے کہ جب سے یہ الہام ہوا ہے۔’’دنیا میں ایک نذیر آیا مگر دنیا نے اسے قبول نہ کیا لیکن خدااسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔‘‘ اب اس کا مفہوم کہ زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کرے گا قابلِ غورہے۔بیوقوف جانتے ہیں کہ یہ کاروبارمصنوعی کیسے چل سکتا ہے؟ ہمارے دیکھتے ہوئے ہزاروں چل بسے لیکن ان لوگوں کے نزدیک اب سب کچھ جائز ہو گیا ہے کل خوبیاں جو کہ صادقوں کے لیے تجویزکرتے تھے اب سب کاذبوں کو دے دی ہیں اور ایسے