ملفوظات (جلد 4) — Page 159
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۵۹ ذکر تھا کہ اس مقدمہ میں ہماری فتح ہے وہی خدا اب بھی ہمارے ساتھ ہے۔ ه ہر بلا کیں قوم راحق داده است زیر آن گنج کرم بنهاده است جلد چهارم ایک اخبار کی نسبت ذکر ہوا کہ مقدمہ کا نتیجہ قبل از وقت شائع کرنا خدا کی معرفت ضروری ہے دور اندیش پر دلالت نہیں کرتا۔ فرمایا کہ جب یہ لوگ خدا کے قائل نہیں تو الہام کے کب قائل ہوں گے؟ ان لوگوں کو بے عقل بھی نہیں کہنا چاہیے بلکہ ان میں نو را ایمان نہیں ہے کیا وہ کسی ایسے مفتری و کذاب کی نظیر پیش کر سکتے ہیں کہ اس کی مخالفت پر ناخنوں تک زور لگایا گیا ہو اور ہمیشہ قبل از وقت اپنے افتر ا شائع کرتا رہا ہوا اور پھر وہ اپنے وقت پر پورے ہوتے رہے ہوں بتلاویں تو سہی جس شد و مد سے ہم نے خبریں قبل از وقت پیش کی ہیں کسی اور نے بھی کیں ہیں۔ ان لوگوں کے اعمال کا کوئی فائدہ نہیں ہے جب نے کے اعمال فائدہ ہے تک خدا پر یقین نہ ہو۔ خدا کی معرفت ضروری ہے کوئی آسمانی امران کے نزدیک عظمت کے قابل نہیں ہے تعجب آتا ہے کہ ایک طرف طاعون کا یہ حال ہے اور ایک طرف دلوں کی یہ سختی ۔ کوئی اور برتن ہو تو انسان اس میں ہاتھ ڈال کر صاف بھی کرلے مگر ان کے دلوں کے برتن جن کے اندر زنگار بھرا ہوا ہے کیسے صاف ہوں ۔ عجب معاملہ ہے جس قدر ہمیں ان پر حسرت ہوتی ہے اسی قدر ان کو نفرت اور بغض اور جوش بڑھتا ہے۔ جیسے کوئی آدمی جس کا معدہ بلغم یا صفرا سے بھرا ہوا ہو تو اسے کھانا کھانے سے تنفر ہوتا ہے کہ وہ کھانے کا نام سن کر بھی برداشت نہیں کر سکتا اور اس کا جی بیزار ہوتا ہے یہی حال ان کا ہے سچی بات کا نام تک نہیں سن سکتے کس کس کی شکایت کریں سب ایک ہی ہیں۔ مجھے خوب یاد ہے کہ جب سے یہ الہام ہوا ہے۔ دنیا میں ایک نذیر آیا مگر دنیا نے اسے قبول نہ کیا لیکن خدا خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔ اب اس کا مفہوم کہ زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کرے گا قابلِ غور ہے۔ بیوقوف جانتے ہیں کہ یہ کا روبار مصنوعی کیسے چل سکتا ہے؟ ہمارے دیکھتے ہوئے ہزاروں چل بسے لیکن ان لوگوں کے نزدیک اب سب کچھ جائز ہو گیا ہے کل خوبیاں جو کہ صادقوں کے لیے تجویز کرتے تھے اب سب کا ذبوں کو دے دی ہیں اور ایسے وو