ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 158 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 158

کرتا ہے تو خود آزمائش میں پڑتا ہے اور نوبت ہلاکت تک آجاتی ہے۔صحابہ کرامؓ کا بے نظیر نمونہ جہلم کے مقدمہ کی نسبت فرمایا کہ خدا کی طرف سے جو معلوم ہوتا ہے وہ ہو کر ہی رہتا ہے۔اسباب کیا شَے ہیں کچھ بھی نہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری راہ میں جاؤ گے تو مُرٰغَمًا كَثِيْرًا پائو گے۔صحتِ نیت سے جو قدم اٹھاتا ہے خدا اس کے ساتھ ہوتا ہے بلکہ انسان اگر بیمار ہو تو اس کی بیماری دور ہو جاتی ہے۔صحابہؓ کی نظیر دیکھ لو دراصل صحابہ کرام ؓ کے نمونے ایسے ہیں کہ کل انبیاء کی نظیر ہیں۔خدا کو تو عمل ہی پسند ہیں۔انہوں نے بکریوں کی طرح اپنی جان دی اور ان کی مثال ایسی ہے جیسے نبوت کی ایک ہیکل آدم سے لے کر چلی آتی تھی اور سمجھ نہ آتی تھی مگرصحابہ کرامؓنے چمکاکر دکھلا دی اور بتلا دیا کہ صدق اور وفا اسے کہتے ہیں۔حضرت عیسیٰ کا تو حال ہی نہ پوچھو۔موسٰی کو کسی نے فروخت نہ کیا مگر عیسیٰ کو ان کے حواریوں نے تیس روپے لے کر فروخت کر دیا۔قرآن شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ حواریوں کو عیسیٰ علیہ السلام کی صداقت پر شک تھا جبھی تو مائدہ مانگااور کہا وَ نَعْلَمَ اَنْ قَدْ صَدَقْتَنَا(المآئدۃ:۱۱۴) تاکہ تیرا سچا اور جھوٹا ہونا ثابت ہو جائے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نزولِ مائدہ سے پیشتر ان کی حالت نَعْلَمَ کی نہ تھی پھر جیسی بے آرامی کی زندگی انہوں نے بسر کی اس کی نظیر کہیں نہیں پائی جاتی۔صحابہ کرامؓکا گروہ عجیب گروہ، قابلِ قدر اور قابل پیروی گروہ تھا۔ان کے دل یقین سے بھر گئے ہوئے تھے جب یقین ہوتا ہے تو آہستہ آہستہ اوّل مال وغیرہ دینے کو جی چاہتا ہے پھر جب بڑھ جاتا ہے تو صاحبِ یقین خدا کی خاطر جان دینے کو طیار ہو جاتا ہے۔(بوقتِ مغرب و عشاء) مقدمہ بازی کے اوپر ذکرچلا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایاکہ اب اس وقت دنیا کا یہ حال ہے کہ لوگوںنے خدا کا کوئی خانہ خالی نہیں رکھا۔گذشتہ کارروائی کو یہ لوگ خیال نہیں کرتے اور نہ تجربہ کرتے ہیں۔کیا کسی کو خیال تھا مقدمہ جہلم کا یہ نتیجہ ہوگا۔پھر جس خدا نے قبل ازوقت بتلایا اور ہم نے دو صد سے زیادہ کتب چھاپ کر فیصلہ سے پیشتر شائع کردیں جس میں