ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 8 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 8

زندہ کرتا ہے ان کی زیارت سے مصائب دور ہوتے ہیں جو شخص رحمت والے کے پاس آوے گا تو وہ رحمت کے قریب تر ہوگا اور جو ایک لعنتی کے پاس جاوے گا وہ لعنت کے قریب تر ہوگا۔دنیا میں یہی بات غور کے قابل ہے خدا تعالیٰ فرماتا ہے كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ (التّوبۃ: ۱۱۹) یعنی اے بندو! تمہارا بچائو اسی میں ہے کہ صادقوں کے ساتھ ہو جائو۔پھر نماز کی حلاوت کے سوال پر فرمایا کہ نشوو نما رفتہ رفتہ ہوا کرتا ہے یہ آپ کی خوش قسمتی ہے کہ یہاں آگئے اگر خدا نہ چاہتا تو آپ کیا کرتے؟ ممکن تھا کہ اوّل دلّی کی طرف جاتے تو وہاں سے سوائے لاف وگزاف کے کیا ساتھ لے جاتے یا چند ایک تماشہ شعبدہ بازی کے دیکھ لیتے۔سائل نے عرض کی کہ میرا خیال تھا کہ آپ ضرور جلسہ دہلی میں ہوں گے آپ کا کمپ معہ اپنی جماعت کے الگ ہوگا۔حضرت اقدس نے فرمایاکہ ہم ان باتوں سے ایسے متنفّر ہیں کہ ان کے خیمے ہمارے نزدیک بھی ہوں تو ہم یہ خواہش کریں کہ خدا جلد تر ان کو یہاں سے اٹھادے جیسے ایک مُردار جب پاس پڑا ہو تو اسے جلدی اٹھوادیتے ہیں کہ کہیں متعفّن ہو کر بیماری کا باعث نہ ہو۔سائل نے عرض کی کہ اس سے پیشتر مجھے بہت شوق جلسہ کا تھا مگر اب دو تین دن سے ذرّہ خیال تک بھی نہیں ہے حضور کی زیارت کو دل چاہتا ہے۔حضرت اقدس ؑ نے فرمایا کہ حق یہی ہے۔۱ رئویت ملائکہ پھر سائل نے عرض کی کہ کیا ہم فرشتہ کو دیکھ سکتے ہیں؟ حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ ہم ہر روز دیکھتے ہیں کبھی کشف میں، کبھی رئویا میں۔ایک حالت رئویا کی ہوتی ہے وہ نیند میں ہوتی ہے اس میں بھی غیبتِ حس ہوتی ہے کہ انسان سو کر کہیں کا کہیں سیر کرتا ہے اور مکان اس کا بدلتا ۱ البدر جلد ۱ نمبر ۱۱ مورخہ ۹؍ جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۸۵، ۸۶