ملفوظات (جلد 4) — Page 146
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۴۶ جلد چهارم بدکاریوں اور کوتاہ اندیشیوں سے باز آ جائے اور خدا تعالیٰ پر اسے ایک نیا ایمان حاصل ہو اور اپنے سابقہ گناہوں پر تو بہ اور نادم ہونے کا موقع ملے ۔ انسان عاجز کی ہستی کیا ہے؟ صرف ایک دم پر انحصار ہے۔ پھر کیوں وہ آخرت کا فکر نہیں کرتا اور موت سے نہیں ڈرتا اور نفسانی اور حیوانی جذبات کا مطیع اور غلام ہو کر عمر ضائع کر دیتا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ ہندوؤں کو بھی احساسِ موت ہوا ہے۔ بٹالہ میں کشن چند نام ایک بھنڈاری ستر یا بہتر برس کی عمر کا تھا۔ اس وقت اس نے گھر بار سب کچھ چھوڑ دیا اور کانشی میں جا کر رہنے لگا اور وہاں ہی مر گیا۔ یہ صرف اس لیے کہ وہاں مرنے سے اس کی موکش ہوگی مگر یہ خیال اس کا باطل تھا۔ لیکن اس سے اتنا تو مفید نتیجہ ہم نکال سکتے ہیں کہ اس نے احساسِ موت کیا اور احساس موت انسان کو دنیا کی لذات میں بالکل منہمک ہونے سے اور خدا سے دور جہ سے دور جا پڑنے سے بچا لیتا ہے۔ یہ بات کہ کانشی میں مرنا مکتی کا باعث ہوگا یہ اسی مخلوق پرستی کا پردہ تھا جو اس کے دل پر پڑا ہوا تھا مگر مجھے تو سنحت افسوس ہوتا ہے جب کہ میں دیکھتا ہوں کہ مسلمان ہندوؤں کی طرح بھی احساسِ موت نہیں کرتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھو صرف اس ایک حکم نے کہ فَاسْتَقِمْ كَما امرت نے ہی بوڑھا کر دیا۔ کس قدر احساسِ موت ہے۔ آپ کی یہ حالت کیوں ہوئی صرف اس لئے کہ تاہم اس سے سبق لیں ۔ ورنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک اور مقدس زندگی کی اس سے بڑھ کر اور کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہادی کامل اور پھر قیامت تک کے لیے اور اس پر گل دنیا کے لیے مقرر فرمایا۔ مگر آپ کی زندگی کے کل واقعات ایک عملی تعلیمات کا مجموعہ ہے جس طرح پر قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی قولی کتاب ہے اور قانونِ قدرت اس کی فعلی کتاب ہے اسی طرح پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بھی ایک فعلی کتاب ہے جو گو یا قرآن کریم کی شرح اور تفسیر ہے۔ یہ ہے جوگو کریم کی میرے تیس سال کی عمر میں ہی سفید بال نکل آئے تھے اور مرزا صاحب ۔ ، مرحوم میرے والد ابھی زندہ ہی تھے۔ سفید بال بھی گویا ایک قسم کا نشان موت ہوتا ہے جب بڑھا یا آتا ہے جس کی نشانی یہی سفید بال ہیں تو انسان سمجھ لیتا ہے کہ مرنے کے دن اب قریب ہیں ۔ مگر افسوس تو یہ ہے کہ اس وقت بھی انسان کو فکر نہیں لگتا۔ مومن تو ایک چڑیا اور اور جانوروں سے بھی اخلاق فاضلہ سیکھ سکتا ہے کیونکہ خدائے تعالیٰ