ملفوظات (جلد 4) — Page 144
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۴ جلد چهارم کی محبت اور عظمت قائم نہیں ہوتی ۔ اور پھر میں اصل ذکر کی طرف رجوع کر کے کہتا ہوں کہ نماز کی لذت اور سرور اسے حاصل نہیں ہو سکتا ۔ مدار اسی بات پر ہے کہ جب تک برے ارادے، نا پاک اور گندے منصوبے بھسم نہ ہوں انانیت اور شیخی دور ہو کر نیستی اور فروتنی نہ آئے خدا کا سچا بندہ نہیں کہلا سکتا۔ عبودیت کاملہ کے سکھانے کے لیے بہترین معلم اور افضل ترین ذریعہ نماز ہی ہے۔ میں تمہیں پھر بتلاتا ہوں کہ اگر خدائے تعالیٰ سے سچا تعلق حقیقی ارتباط قائم کرنا چاہتے ہو تو نماز پر کار بند ہو جاؤ اور ایسے کار بند نہ ہو کہ نہ تمہارا جسم نہ تمہاری زبان بلکہ تمہاری روح ، تمہاری روح کے ارادے اور جذبے سب کے سب ہمہ تن نماز ہو جائیں ۔ عصمت انبیاء کا یہی راز ہے یعنی نبی کیوں معصوم ہوتے ہیں؟ تو اس کا عصمت انبیاء کا ملنا یہی جواب ہے کہ وہ استغراق محبت الہی کے باعث معصوم ہوتے ہیں۔ مجھے حیرت ہوتی ہے جب ان قوموں کو دیکھتا ہوں جو شرک میں مبتلا ہیں جیسے ہندو جو قسم قسم کے اصنام کی پرستش کرتے ہیں یہاں تک کہ انہوں نے عورت اور مرد کے اعضا مخصوصہ تک کی پرستش بھی جائز کر رکھی ہے اور ایسا ہی وہ لوگ جو ایک انسانی لاش یعنی یسوع مسیح کی پرستش کرتے ہیں اس قسم کے لوگ مختلف صورتوں سے حصول نجات یا مکتی کے قائل ہیں مثلاً اول الذکر یعنی ہندو گنگا اشنان اور تیرتھ یا ترا اور ایسے ایسے کفاروں سے گناہ سے موکش چاہتے ہیں اور عیسی پرست عیسائی مسیح کے خون کو اپنے گناہوں کا فدیہ قرار دیتے ہیں مگر میں کہتا ہوں کہ جب تک نفس گناہ موجود ہے وہ بیرونی صفائی اور خارجی معتقدات سے راحت یا اطمینان کا ذریعہ کیوں کر پا سکتے ہیں جب تک اندر کی صفائی اور باطنی تطہیر نہیں ہوتی ۔ ناممکن ہے کہ انسان سچی پاکیزگی اور طہارت جو انسان کو نجات سے ملتی ہے پا سکے ۔ ہاں اس سے ایک سبق لوجس طرح پر دیکھو بدن کی میل اور بد بو بدوں صفائی کے دور نہیں ہو سکتی اور جسم کو ان آنے والے خطرناک امراض سے بچا نہیں سکتی اسی طرح پر روحانی کدورات اور میل جو دل پر نا پاکیوں اور قسم قسم کی بے باکیوں سے جم جاتی ہے دور نہیں ہو سکتی جب تک تو بہ کا مصفا اور پاک پانی نہ دھو ڈالے۔ جسمانی سلسلہ میں ایک فلسفہ جس طرح پر موجود ہے اسی طرح پر روحانی سلسلہ میں