ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 144 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 144

کی محبت اور عظمت قائم نہیں ہوتی۔اور پھر میں اصل ذکر کی طرف رجو ع کرکے کہتا ہوں کہ نماز کی لذّت اور سرور اسے حاصل نہیں ہوسکتا۔مداراسی بات پر ہے کہ جب تک برے ارادے، ناپاک اور گندے منصوبے بھسم نہ ہوں انانیت اور شیخی دور ہو کر نیستی اور فروتنی نہ آئے خدا کا سچابندہ نہیں کہلا سکتا۔عبودیتِ کاملہ کے سکھانے کے لیے بہترین معلّم اور افضل ترین ذریعہ نماز ہی ہے۔میں تمہیں پھر بتلاتا ہوں کہ اگر خدائے تعالیٰ سے سچا تعلق، حقیقی ارتباط قائم کرنا چاہتے ہو تو نمازپر کار بند ہو جائو اور ایسے کاربند نہ ہو کہ نہ تمہارا جسم نہ تمہاری زبان بلکہ تمہاری روح، تمہاری روح کے ارادے اور جذبے سب کے سب ہمہ تن نماز ہو جائیں۔عصمتِ انبیاء کا ملنا عصمتِ انبیاء کا یہی راز ہے یعنی نبی کیوں معصوم ہوتے ہیں؟ تو اس کا یہی جواب ہے کہ وہ استغراقِ محبت الٰہی کے باعث معصوم ہوتے ہیں۔مجھے حیرت ہوتی ہے جب ان قوموں کو دیکھتا ہوں جو شرک میں مبتلا ہیں جیسے ہندوجو قسم قسم کے اصنام کی پرستش کرتے ہیں یہاں تک کہ انہوں نے عورت اور مَردکے اعضا مخصوصہ تک کی پرستش بھی جائز کر رکھی ہے اور ایسا ہی وہ لوگ جو ایک انسانی لاش یعنی یسوع مسیح کی پرستش کرتے ہیں اس قسم کے لوگ مختلف صورتوں سے حصولِ نجات یا مکتی کے قائل ہیں مثلاًاوّل الذکر یعنی ہندو گنگااشنان اور تیرتھ یاترا اور ایسے ایسے کفّاروں سے گناہ سے موکش چاہتے ہیں اور عیسیٰ پرست عیسائی مسیح کے خو ن کو اپنے گناہوں کا فدیہ قرار دیتے ہیں مگر میں کہتا ہوں کہ جب تک نفسِ گناہ موجود ہے وہ بیرونی صفائی اور خارجی معتقدات سے راحت یا اطمینان کا ذریعہ کیوں کر پاسکتے ہیں جب تک اندر کی صفائی اور باطنی تطہیر نہیں ہوتی۔ناممکن ہے کہ انسان سچی پاکیزگی اور طہارت جو انسان کو نجات سے ملتی ہے پا سکے۔ہاں اس سے ایک سبق لو جس طرح پر دیکھو بدن کی میل اور بد بو بدوں صفائی کے دور نہیں ہوسکتی اور جسم کو ان آنے والے خطرناک امراض سے بچا نہیں سکتی اسی طرح پر ر وحانی کدورات اور میل جو دل پر ناپاکیوں اور قسم قسم کی بے باکیوں سے جم جاتی ہے دور نہیں ہوسکتی جب تک توبہ کا مصفّا اور پاک پانی نہ دھو ڈالے۔جسمانی سلسلہ میں ایک فلسفہ جس طرح پر موجود ہے اسی طرح پر روحانی سلسلہ میں