ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 139 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 139

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۳۹ جلد چهارم طور پر ٹکریں مارتے ہیں۔ اُن کی رُوح مُردہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا نام حسنات نہیں رکھا اور یہاں جو حسنات کا لفظ رکھا اور الصلوٰۃ کا لفظ نہیں رکھا باوجود یکہ معنی وہی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تا نماز کی خوبی اور حسن و جمال کی طرف اشارہ کرے کہ وہ نماز بدیوں کو دور کرتی ہے جو اپنے اندر ایک سچائی کی روح رکھتی ہے اور فیض کی تاثیر اس میں موجود ہے وہ نماز یقیناً یقیناً برائیوں کو دور کر دیتی ہے۔ نماز نشست و برخاست کا نام نہیں۔ نماز کا مغز اور روح وہ دعا ہے جو ایک لذت اور سرور اپنے اندر رکھتی ہے۔ ارکانِ نماز دراصل روحانی نشست و برخاست کے اطلال ہیں۔ انسان کو خدائے تعالیٰ کے روبرو کھڑا ہونا پڑتا ہے اور قیام بھی آداب خدمتگاران میں سے ہے۔ رکوع جو دوسرا حصہ ہے بتلاتا ہے کہ گویا طیاری ہے کہ وہ تعمیل حکم کو کس قدر گردن جھکاتا ہے۔ اور سجدہ کمال ادب اور کمال تذلل اور نیستی کو جو عبادت کا مقصود ہے ظاہر کرتا ہے۔ یہ آداب اور طرق ہیں جو خدا تعالیٰ نے بطور یادداشت کے مقرر کر دیتے ہیں۔ اور جسم کو باطنی طریق سے حصہ دینے کی خاطران کو مقرر کیا ہے۔ علاوہ ازیں باطنی طریق کے اثبات کی خاطر ایک ظاہری طریق بھی رکھ دیا ہے۔ اب اگر ظاہری طریق میں ( جو اندرونی اور باطنی طریق کا ایک عکس ہے ) صرف نقال کی طرح نقلیں اُتاری جائیں اور اسے ایک بار گراں سمجھ کر اُتار پھینکنے کی کوشش کی جاوے تو تم ہی بتلاؤ اس میں کیا لذت اور حظ آسکتا ہے۔ اور جب تک لذت اور سرور نہ آئے اُس کی حقیقت کیوں کر متحقق ہو گی اور یہ اس وقت ہوگا جب کہ روح بھی ہمہ نیستی اور تذلل تام ہو کر آستانہ الوہیت پر گرے اور جو زبان بولتی ہے روح بھی بولے۔ اس وقت ایک سرور اور نور اور تسکین حاصل ہو جاتی ہے۔ حامل ہو جاتی ہے۔۔ میں اس کو اور کھول کر کہنا چاہتا ہوں کہ انسان جس قدر مراتب طے کر کے انسان ہوتا ہے۔ یعنی رکہنا چاہتا ہوں کہ انسان جس قدر مراتب طے کر کے انہ بلکہ اس سے بھی پہلے نطفہ کے اجزا یعنی مختلف قسم کی اغذیہ اور ان کی ساخت اور بنا پھر نطفہ کے بعد مختلف مدارج کے بعد بچہ پھر جوان، بوڑھا۔ غرض ان تمام عالموں میں جو اس پر مختلف اوقات میں گذرے ہیں اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا معترف ہو اور وہ نقشہ ہر آن اس کے ذہن میں کھچا رہے تو بھی وہ اس قابل ہو سکتا ہے کہ ربوبیت کے مد مقابل میں اپنی عبودیت کو ڈال دے۔ غرض مدعا