ملفوظات (جلد 4) — Page 138
چاہیے کہ جس طرح اور پھلوں اور اشیاء کی طرح طرح کی لذتیں عطا کی ہیں نماز اور عبادت کا بھی ایک بار مزا چکھا دے، کھا یا ہوا یاد رہتا ہے۔دیکھو! اگر کوئی شخص کسی خوبصورت کو ایک سُرور کے ساتھ دیکھتا ہے تو وہ اسے خوب یاد رہتا ہے اور پھر اگر کسی بد شکل اور مکروہ ہیئت کو دیکھتا ہے تو اس کی ساری حالت اس کے بالمقابل مجسم ہوکر سامنے آجاتی ہے۔ہاں اگر کوئی تعلق نہ ہوتو کچھ یاد نہیں رہتا۔اسی طرح بے نمازوں کے نزدیک نماز ایک تاوان ہے کہ ناحق صبح اُٹھ کر سردی میں وضو کرکے خوابِ راحت چھوڑ کر اور کئی قسم کی آسائشوں کو چھوڑ کر پڑھنی پڑتی ہے۔اصل بات یہ ہے کہ اسے بیزاری ہے وہ اس کو سمجھ نہیں سکتا۔اس لذّت اور راحت سے جو نماز میں ہے اس کو اطلاع نہیں ہے۔پھر نماز میں لذّت کیوں کر حاصل ہو۔میں دیکھتا ہوں کہ ایک شرابی اور نشہ باز انسان کو جب سُرور نہیں آتا تو وہ پے در پے پیتا جاتا ہے یہاں تک کہ اس کو ایک قسم کا نشہ آجاتا ہے۔دانشمند اور زیرک انسان اس سے فائد ہ اُٹھا سکتا ہے اور وہ یہ کہ نماز پر دوام کرے اور پڑھتا جاوے یہاں تک کہ اس کو سُرور آجائے اور جیسے شرابی کے ذہن میں ایک لذّت ہوتی ہے جس کاحا صل کرنا اس کا مقصود بالذّات ہوتا ہے اسی طرح سے ذہن میں اور ساری طاقتوں کا رجحان نماز میں اسی سُرورکو حاصل کرنا ہو اور پھر ایک خلوص اور جوش کے ساتھ کم از کم اس نشہ باز کے اضطراب اور قلق و کرب کی مانند ہی ایک دعا پید اہوکر وہ لذّت حاصل ہوتو میں کہتا ہوں اور سچ کہتا ہوں اور سچ کہتا ہوں کہ یقیناً یقیناً وہ لذّت حاصل ہوجائے گی۔پھر نماز پڑھتے وقت ان مفاد کا حاصل کرنا بھی ملحوظ ہو جو اُس سے ہوتے ہیں اور احسان پیشِ نظر رہے اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاٰتِ(ہود:۱۱۵) نیکیاں بدیوں کو زائل کردیتی ہیں۔پس ان حسنات کو اور لذّات کو دل میں رکھ کر دعا کرے کہ وہ نماز جو صدیقوں اور محسنوں کی ہے وہ نصیب کرے۔یہ جو فرمایا ہے کہ اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاٰتِ۔یعنی نیکیاں یا نماز بدیوں کودُور کرتی ہے یا دوسرے مقام پر فرمایا ہے کہ نماز فواحش اور برائیوں سے بچاتی ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ باوجود نماز پڑھنے کے پھر بدیاں کرتے ہیں۔اس کا جواب یہ ہے کہ وہ نماز پڑھتے ہیں مگر نہ رُوح اور راستی کے ساتھ۔وہ صرف رسم اور عادت کے