ملفوظات (جلد 4) — Page 6
ملفوظات حضرت مسیح موعود جلد چهارم گرمی اور شدت سردی کے موسم میں طاعون دب جاتی ہے گویا وہ اصوم کا وقت ہے اور فروری، مارچ ، اکتو بر وغیرہ میں زور کرتی ہے وہ گو یا افطار کا وقت ہوتا ہے اور اسی لطیف کلام میں سے ہے إِنِّي أَنَا الصَّاعِقَةُ - ایک نے عرض کی کہ نماز میں لذت کچھ نہیں آتی نماز میں لذت کے حصول کی شرائط حضرت اقدس نے فرمایا کہ نماز نماز بھی ہو۔ نماز سے پیشتر ایمان شرط ہے ایک ہندو اگر نماز پڑھے گا تو اسے کیا فائدہ ہوگا جس کا ایمان قوی ہوگا وہ دیکھے گا کہ نماز میں کیسی لذت ہے اور اس سے اول معرفت ہے جو خدا کے فضل سے آتی ہے اور کچھ اس کی طینت سے آتی ہے جو محمود فطرت والے مناسب حال اس کے فضل کے ہوتے ہیں اور اس کے اہل ہوتے ہیں انہی پر فضل ہوا کرتا ہے ہاں یہ بھی لازم ہے کہ جیسے دنیا کی راہ میں کوشش کرتا وو ہے ویسے ہی خدا کی راہ میں بھی کرے۔ پنجابی میں ایک مثل ہے جو منگے سومر ر ہے مر - ” ر مرے سو منگن جائے 66 لوگ کہتے ہیں کہ دعا کرو۔ دعا کرنا تو مرنا ہوتا ہے اس ( پنجابی مصرعہ ) کے دعا کی حقیقت یہی معنے ہیں کہ جس پر نہایت درجہ کا اضطراب ہوتا ہے وہ دعا کرتا ہے دع میں ایک موت ہے اور اس کا بڑا اثر یہی ہوتا ہے کہ انسان ایک طرح سے مر جاتا ہے مثلاً ایک انسان ایک قطرہ پانی کا پی کر اگر دعوی کرے کہ میری پیاس بجھ گئی ہے یا اسے بڑی پیاس تھی تو وہ جھوٹا ہے ہاں اگر پیالہ بھر کر پیوے تو اس کی بات کی تصدیق ہوگی ۔ پوری سوزش اور گدازش کے ساتھ ایک رنگ میں جب دعا کی جاتی ہے حتی کہ روح گداز ہو کر آستانہ الہی پر گر پڑتی ہے اور اسی کا نام دعا ہے۔ اور الہی سنت یہی ہے کہ جب ایسی دعا ہوتی ہے تو خدا تعالیٰ یا تو اسے قبول کرتا ہے اور یا جواب دیتا ہے۔ اس مقام پر سائل نے کہا کہ جواب کیسے دیتا ہے؟ خدا کا کلام فرمانا حضرت اقدس نے فرمایا کہ بات کر کے بتلا دیتا ہے۔ سائل نے کہا کہ خدا کیسے بات کرتا ہے؟ فرمایا کہ خدا کے فرشتے کلام کرتے ہیں۔ اکثر دفعہ فرشتوں نے ہمارے ساتھ کلام کی ہے