ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 120 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 120

پیشگوئی کی بھی تکذیب کر بیٹھتے ہیں۔پھر مسیح موعود کے وقت کا ایک نشان طاعون کا تھا۔انجیل، توریت میں بھی یہ نشان موجود تھا اور قرآن شریف سے بھی ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ نشان مسیح موعودؑ کا خدا تعالیٰ نے ٹھہرایا تھا چنانچہ فرمایا وَ اِنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا (بنیٓ اسـرآءیل:۵۹) یہ باتیں معمولی نہیں ہیں بلکہ غور سے سمجھنے کے لائق ہیں اور اب دیکھ لو کہ کیا طاعون ملک میں پھیلی ہوئی ہے یا نہیں؟ اس سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا۔میں نے جب طاعون کے پھیلنے کی پیشگوئی کی تو ملک میں اس کی ہنسی کی گئی اور اس پر ٹھٹھا کیا گیا۔لیکن اب ملک کی حالت اور طاعونی اموات کے نقشوں کو پڑھ کر بتائیں کہ کیا یہ پیشگوئی پُوری ہوئی ہے یا نہیں؟ یہ وہ باتیں ہیں جو سمجھنے کے لائق ہیں اور ان پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ایسا اعتراض کرنا کہ ہم اس وقت تسلیم کریں گے جب مغرب کی طرف سے آفتاب نکل آوے گا اس قسم کے اعتراض تو کفار ہمیشہ سے نبیوں پر کرتے آئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ماموروں کوایسی باتیں مخالفوں سے سننی پڑی تھیں۔اصل بات یہ ہے کہ اگر اس قسم کی باتیں ہوں تو پھر قیامت کا نمونہ ہوجاوے اور اس دنیا کو وہ قیامت بنانا نہیں چاہتا۔ایمان بالغیب بھی کوئی چیز ہے اگر ایسا ہو تو پھر ایمان ایمان نہیں رہتا مثلاً اگر کوئی شخص سورج پر ایمان لاوے تو بتائو یہ ایمان اس کوکیا نفع دے گا؟ ایمان ہمیشہ اسی صورت اور حالت میں مفید اور نتیجہ خیز ہوتا ہے جب اس میں کوئی پہلو خِفا کا بھی ہو لیکن جب کھلی بات ہوتو پھر وہ مفید نہیں ہوتا۔اوّلین کا مقام دیکھو! اگر کوئی شخص پہلی رات کے چاند کو دیکھ کربتاوے تو اُس کی تیز بینی کی تو تعریف ہو گی لیکن اگر چودھویں رات کے چاند کو جو بدر ہوتا ہے دیکھ کر شور مچاوے کہ میں نے چاند کو دیکھ لیا ہے اس کو تو سوائے مجنوں کے اور کوئی خطاب نہیں ملے گا۔اسی طرح پر ایمان میں فراست اور تقویٰ سے کام لینا چاہیے۔اور قرائن قویہ کو دیکھ کر تسلیم کر لینا مومن کا کام ہے ورنہ جب بالکل پردہ برانداز معاملہ ہو گیا ہے اور سارے گو شہ کھل گئے اس وقت ایک خبیث سے خبیث انسان کو بھی اعتراف کرناپڑے گا۔میں اس سوال پربار بار اس لئے زور دیتا