ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 119 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 119

ترقی بخشتا ہے۔کیایہ خدا کے کام ہیں یا انسانی منصوبوں کے نتیجے؟ اصل یہی ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کے کام ہیں اور لوگوں کی نظروں میں عجیب۔مولویوں نے مخالفت کے لیے جہلا کو بھڑ کایا اور عوام کو جوش دلایا، قتل کے فتوے دیئے، کُفر کے فتوے شائع کئے اور ہر طرح سے عام لوگوں کو مخالفت کے لئے آمادہ کیا مگر کیا ہوا؟ اللہ تعالیٰ کی نصرتیں اور تائیدیں اَور بھی زور کے ساتھ ہوئیں۔اُسی کے موافق جو اُس نے کہا تھا کہ ’’دُنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اُس کو قبول نہ کیا مگر خدا تعالیٰ اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کرے گا۔‘‘ مہدئ منتظر جو مولوی مخالفت کے لیے شورمچاتے اور لوگوں کو بھڑکاتے ہیں یہی پہلے منبروں پر چڑھ کر رو رو کر دعائیں کیا کرتے اور کہا کرتے تھے کہ اب مہدی کا وقت آگیا لیکن جب آنے والا مہدی آیا تو یہی شور مچانے والے ٹھہرے اور اسی مہدی کو مُضِل اور ضال، دجّال کہا اور یہاں تک مخالفت کی کہ اپنے خیال میں عدالتوں تک پہنچا کر اس سلسلہ کو بند کرنا چاہا مگر کیا وہ جو خدا کی طرف سے آیا ہے وہ ان لوگوں کی مخالفت سے رُک سکتا ہے اور بند ہوسکتا ہے؟ کیا یہ خدا تعالیٰ کا نشان نہیں؟ اگر یہ اب بھی نہیں مانتے توآدم سے لے کر اس وقت تک کوئی نظیر دو کہ اس طرح پر بیس برس پہلے ایک آنے والے زمانہ کی خبر دی اور پھر ایسی حالت میں کہ لوگوں نے اس پیشگوئی کو روکنے کی بہت کوشش کی وہ پیشگوئی پوری ہوگئی اور لوگوں کا کثرت کے ساتھ رجوع ہوا۔کیایہ نشان کم ہے؟ اس کی نظیر دکھائو۔پھر احادیث میں پڑھتے تھے کہ مہدی کے زمانہ میں رمضان کے مہینہ میں کسوف خسوف ہوگا اور جب تک یہ نشان پورا نہیں ہوا تھا اس وقت تک شورمچاتے تھے کہ یہ نشان پورا نہیں ہوا لیکن اب ساری دنیا قریباً گواہ ہے کہ یہ نشان پورا ہوا۔یہاں تک کہ امریکہ میں بھی ہوا اور دوسرے ممالک میں بھی پورا ہوا۔اور اب وہی جو اس نشان کو آیاتِ مہدی میں سے ٹھہراتے تھے اس کے پورے ہونے پر اپنے ہی منہ سے اس کی تکذیب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ حدیث ہی قابلِ اعتبار نہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی حالت پر رحم کرے۔میری مخالفت کی یہ لعنت پڑتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی