ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 112 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 112

میں بصیرت اور یقین کے ساتھ کہتا ہوں اور میں وہ قوت اپنی آنکھوں سے دیکھتا اور مشاہدہ کرتا ہوں مگر افسوس میں اس دنیا کے فرزندوں کو کیوں کر دکھا سکوں کہ وہ دیکھتے ہوئے نہیں دیکھتے اور سنتے ہوئے نہیں سنتے ہیں کہ وہ وقت ضرور آئے گا کہ خدائے تعالیٰ سب کی آنکھ کھول دے گا اور میری سچائی روزروشن کی طرح دنیا پر کھل جائے گی لیکن وہ وقت وہ ہوگا کہ توبہ کا دروازہ بند ہوجاوے گا اور پھر کوئی ایمان سُود مند نہ ہوسکے گا۔میرے پاس وہی آتا ہے جس کی فطرت سلیم ہے میرے پاس وہی آتا ہے جس کی فطرت میں حق سے محبت اور اہلِ حق کی عظمت ہوتی ہے۔جس کی فطرت سلیم ہے وہ دور سے اس خو شبوکو جوسچائی کی میرے ساتھ ہے سُو نگھتا ہے اور اسی کشش کے ذریعہ سے جو خدا تعالیٰ اپنے ماموروں کو عطا کرتا ہے میری طرف اس طرح کھچے چلے آتے ہیں جیسے لوہا مقناطیس کی طرف جاتا ہے لیکن جس کی فطرت میں سلامت روی نہیں ہے اور جو مُردہ طبیعت کے ہیں ان کو میری باتیں سُرور دہ نہیں معلوم ہوتی ہیں وہ ابتلا میں پڑتے ہیں اور انکار پر انکاراورتکذیب پر تکذیب کرکے اپنی عاقبت کو خراب کرتے ہیں اور اس بات کی ذرا بھی پروا نہیں کرتے کہ ان کا انجام کیا ہونے والا ہے۔میری مخالفت کرنے والے کیا نفع اُٹھائیں گے۔کیا مجھ سے پہلے آنے والے صادقوں کی مخالفت کرنے والوں نے کوئی فائدہ کبھی اُٹھایا ہے؟ اگر وہ نامراد اور خاسر رہ کر اس دنیا سے اُٹھے ہیں تو میرا مخالف اپنے ایسے ہی انجام سے ڈر جاوے کیونکہ میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں صادق ہوں۔میرا انکاراچھے ثمرات نہیں پیدا کرے گا۔مبارک وہی ہیں جو انکار کی لعنت سے بچتے ہیں اور اپنے ایمان کی فکر کرتے ہیں۔جو حُسن ظنّی سے کام لیتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے ماموروں کی صحبت سے فائدہ اُٹھاتے ہیں ان کا ایمان ان کو ضائع نہیں کرتا بلکہ برومند کرتا ہے۔میں کہتا ہوں کہ صادق کی شناخت کے لیے بہت مشکلات نہیں ہیں۔ہر ایک آدمی اگر انصاف اورعقل کوہاتھ سے نہ دے اور خدا کا خوف مدّ ِنظر رکھ کر صادق کو پرکھے تو وہ غلطی سے بچا لیا جاتا ہے لیکن جو تکبّر کرتا ہے اور آیات اللہ کی