ملفوظات (جلد 4) — Page 104
خدا تعالیٰ کے افعال میں بھی کسی دوسرے کو شریک نہ کرے۔دنیا میں جو اسباب کا سلسلہ جاری ہے بعض لوگ اس حد تک اسباب پرست ہوجاتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کو بھول جاتے ہیں۔توحید کی اصل حقیقت تو یہ ہے کہ شرک فی الاسباب کا بھی شائبہ باقی نہ رہے۔خواص الاشیاء کی نسبت کبھی یہ یقین نہ کیا جاوے کہ وہ خواص ان کے ذاتی ہیں بلکہ یہ ماننا چاہیے کہ وہ خواص بھی اللہ تعالیٰ نے ان میں ودیعت رکھے ہیں۔جیسے تُربد اسہال لاتی ہے یا سمّ الفار ہلاک کرتا ہے۔اب یہ قوتیں اور خواص ان چیزوں کے خود بخود نہیں ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان میں رکھے ہوئے ہیں۔اگر وہ نکال لے تو پھرنہ تُربد دست آور ہوسکتی ہے اور نہ سنکھیا ہلاک کرنے کی خاصیت رکھ سکتا ہے اور نہ اسے کھا کر کوئی مَر سکتا ہے۔غرض اسباب کے سلسلہ کو حدِّ اعتدال سے نہ بڑھاوے اور صفات وافعالِ الٰہیہ میں کسی کوشریک نہ کرے تو توحید کی حقیقت اس میں متحقق ہوگی اوراُ سے موحّد کہیں گے۔لاکن اگر وہ صفات و افعالِ الٰہیہ کو کسی دوسرے کے لیے تجویز کرتا ہے تو وہ زبان سے گو کتنا ہی توحید ماننے کا اقرارکرے وہ موحّد نہیں کہلا سکتا۔ایسے موحد تو آریہ بھی ہیں جو اپنی زبان سے کہتے ہیں کہ ہم ایک خدا کو مانتے ہیں لیکن باوجود اس اقرار کے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ روح اور مادہ کو خدا نے پیدا نہیں کیا۔وہ اپنے وجود اور قیام میں اللہ تعالیٰ کے محتاج نہیں ہیں گویا اپنی ذات میں ایک مستقل وجود رکھتے ہیں۔اس سے بڑھ کر اور کیا شرک ہوگا۔اسی طرح پر بہت سے لوگ ہیں جو شرک اور توحیدمیں فرق نہیں کرسکتے۔ایسے افعال اور اعمال ان سے سر زد ہوتے ہیں یا وہ اس قسم کے اعتقاد ات رکھتے ہیں جن میں صاف طور پرشرک پایا جاتا ہے مثلاً کہہ دیتے ہیں کہ اگر فلاں شخص نہ ہوتا تو ہم ہلاک ہوجاتے یا فلاں کام درست نہ ہوتا۔پس انسان کو چاہیے کہ اسباب کے سلسلہ کو حدّ اعتدال سے نہ بڑھاوے اور صفت و افعالِ الٰہیہ میں کسی کو شریک نہ کرے۔انسان میں جو قوتیں اور ملکے اللہ تعالیٰ نے رکھے ہیں ان میں وہ حد سے نہیں بڑھ سکتے مثلاً آنکھ اس نے دیکھنے کے لیے بنائی ہے اور کان سننے کے لیے، زبان بولنے اور ذائقہ کے لیے۔اب یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ وہ کانوں سے بجائے سننے کے دیکھنے کا کام لے اور زبان سے بولنے اور چکھنے کی