ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 103 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 103

۱۷ ؍جنوری ۱۹۰۳ء (حضرت حجۃ اللہ جہلم میں ) ایک الہام کی تشریح ۱۷ ؍جنوری ۱۹۰۳ء کو کچہری جانے سے پیشتر اعلیٰ حضرت نے ہمارےمحترم مخدوم جناب خان محمد عجب خان صاحب آف زیدہ کو خطاب کرکے فرمایا کہ آپ نے رخصت لی ہے ہمارے پاس بھی رہنا چاہیے خان صاحب نے دارالامان آنے کا وعدہ کیا اورتھوڑی دیر کے بعد پوچھاکہ اَنْتَ مِنِّیْ وَاَنَا مِنْکَ پر لوگ اعتراضات کرتے ہیں۔اس کا کیا جواب دیا جاوے؟ فرمایا۔اَنْتَ مِنِّیْ تو بالکل صاف ہے اس پر کسی قسم کا اعتراض اور نکتہ چینی نہیں ہوسکتی میرا ظہور محض اللہ تعالیٰ ہی کے فضل سے ہے اور اسی سے ہے۔دوسرا حصہ اس الہام کا کسی قدر شرح طلب ہے سو یاد رکھنا چاہیے کہ اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جیسا قرآن شریف میں بار بار اس کا ذکر ہوا ہے وحدہٗ لاشریک ہے نہ اس کی ذات میں کوئی شریک ہے نہ صفات میں نہ افعالِ الٰہیہ میں۔سچی بات یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی توحید پر ایمانِ کامل اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک انسان ہر قسم کے شرک سے پاک نہ ہو۔توحید تب ہی پوری ہوتی ہے کہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کو کیا باعتبار ذات اور کیا باعتبار صفات اور افعال کے بے مثل مانے۔نادان میرے اس الہام پر تو اعتراض کرتے ہیں اور سمجھتے نہیں کہ اس کی حقیقت کیا ہے لیکن اپنی زبان سے ایک خدا کا اقرار کرنے کے باوجود بھی اللہ تعالیٰ کی صفات دوسرے کے لیے تجویز کرتے ہیں جیسے حضرت مسیح علیہ ا لسلا م کو محیی اور ممیت مانتے ہیں، عالم الغیب مانتے ہیں، حیُّ القیوم مانتے ہیں۔کیا یہ شرک ہے یا نہیں؟ یہ خطرناک شرک ہے جس نے عیسائی قوم کو تباہ کیا ہے اوراب مسلمانوں نے اپنی بد قسمتی سے ان کے اس قسم کے اعتقادوں کو اپنے اعتقادات میں داخل کر لیا ہے پس اس قسم کے صفات جو اللہ تعالیٰ کے ہیں کسی دوسرے انسان میں خواہ وہ نبی ہو یا ولی تجویزنہ کرے اور اسی طرح