ملفوظات (جلد 4) — Page 98
نزول وحی کی ضرورت کا ثبوت غرض اس قسم میں نزول وحی کی ضرورت کو ایک عام مشاہدہ کی رو سے ثابت کیا ہے کہ جیسے آسمانی پانی کے نہ برسنے کی وجہ سے زمین مَرجاتی اور کنوئوں کا پانی خشک ہونے لگتا ہے یہی قانون نزول وحی کے متعلق ہے۔رَجْعٌ پانی کو کہتے ہیں۔حالانکہ پانی زمین پر بھی ہوتا ہے لیکن آسمان کوذَاتِ الرَّجْعِ کہا ہے۔اس میں یہ فلسفہ بتایا ہے کہ اصلی آسمانی پانی ہی ہے۔چنانچہ کہا ہے۔؎ باراں کہ در لطافت طبعش دریغ نیست در باغ لالہ روید و در شورہ بوم خس جو کیفیت بارش کے وقت ہوتی ہے وہی نزول وحی کے وقت۔دو قسم کی طبیعتیں موجود ہوتی ہیں۔ایک تو مستعد ہوتی ہیں اور دوسری بلید۔مستعد طبیعت والے فوراً سمجھ لیتے ہیں اور صادق کا ساتھ دے دیتے ہیں لیکن بلید الطبع نہیں سمجھ سکتے اور وہ مخالفت پر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔دیکھو! مکہ معظمہ میں جب وحی کا نزول ہوا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر خدا تعالیٰ کا کلام اترنے لگا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ اور ابو جہل ایک ہی سرزمین کے دوشخص تھے۔ابوبکرؓ نے تو کوئی نشان بھی نہ مانگا اور مجرد دعویٰ سنتے ہی اٰمَنَّا کہہ کر ساتھ ہو لیا۔مگر ابو جہل نے نشان پر نشان دیکھے مگر تکذیب سے باز نہ آیا اور آخر خدا تعالیٰ کے قہر کے نیچے آکر ذلّت کے ساتھ ہلاک ہوا۔غرض خدا تعالیٰ کی وحی ہر قسم کی طبیعتوں کو باہر نکال دیتی ہے۔طیّب اور خبیث میں امتیاز کرکے دکھا دیتی ہے۔وہ بہار کا موسم ہوتا ہے۔اس وقت ممکن نہیں کہ کوئی تخم شگفتگی کے لئے نہ نکلے۔لیکن جو کچھ ہوگا وہی بر آمد ہوگا۔نیک اور سعید الفطرت اپنی جگہ پر نمودار ہوتے ہیں اور خبیث الگ۔اور اس سے پہلے وہ ملے جلے ہوئے ہوتے ہیں جیسے گندم اور بھگاٹ کے دانے ملے ہوئے تو رہتے ہیں لیکن جب زمین سے نکلتے ہیں تو دونوں الگ نظر آتے ہیں۔مالک گندم کی حفاظت کرتا اور بھگاٹ کو نکال کر باہر پھینکتا ہے۔پس نزول وحی کے ثبوت کے لئے اﷲ تعالیٰ نے یہ مشاہدہ پیش کیا ہے جس کو نادان