ملفوظات (جلد 4) — Page 97
چاہتا ہے اور اس کو اس طرز پر پیش کیا ہے۔۱ اب اس قسم کی قَسم پر اعتراض کرنا بجز ناپاک فطرت یا بلید الطبع انسان کے دوسرے کا کام نہیں کیونکہ اس میں تو عظیم الشان صداقت موجود ہے۔صحیفہ فطرت کی عام شہادت کے ذریعہ اﷲ تعالیٰ کلام الٰہی اور نزول وحی کی حقیقت بتانی چاہتا ہے۔سماء کے معنی بادل کے بھی ہیں جس سے مینہ برستا ہے۔آسمان اور زمین میں ایسے تعلقات ہیں جیسے نر و مادہ میں ہوتے ہیں۔زمین میں بھی کنوئیں ہوتے ہیں لیکن زمین پھر بھی آسمانی پانی کی محتاج رہتی ہے۔جب تک آسمان سے بارش نہ ہو زمین مُردہ سمجھی جاتی ہے اور اس کی زندگی اس پانی پر منحصر ہے جو آسمان سے آتا ہے۔اسی واسطے فرمایا ہے اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ يُحْيِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا(الـحدید: ۱۸) اور یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جب آسمان سے پانی برسنے میں دیر ہو اور امساک باراں ہو تو کنوئوں کا پانی بھی خشک ہونے لگتا ہے اور ان ایام میں دیکھا گیا ہےکہ پانی اتر جاتا ہے۔لیکن جب برسات کے دن ہوں اور مینہ برسنے شروع ہوں تو کنوؤں کا پانی بھی جوش مار کر چڑھتا ہے کیونکہ اوپر کے پانی میں قوت جاذبہ ہوتی ہے اب براہموں سوچیں کہ اگر آسمانی پانی نازل ہونا چھوڑ دے تو سب کنوئیں خشک ہو جائیں۔اسی طرح پر ہم یہ مانتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ نے ایک نور قلب ہر ایک انسان کو دیا ہے اور اس کے دماغ میں عقل رکھی ہے جس سے وہ برے بھلے میں تمیز کرنے کے قابل ہوتا ہے۔لیکن اگر نبوت کا نور آسمان سے نازل نہ ہو اور یہ سلسلہ بند ہو جاوے تو دماغی عقلوں کا سلسلہ جاتا رہے اور نور قلب پر تاریکی پیدا ہو جاوے اور وہ بالکل کام دینے کے قابل نہ رہے کیونکہ یہ سلسلہ اسی نور نبوت سے روشنی پاتا ہے۔جیسے بارش ہونے پر زمین کی روئید گیاں نکلنی شروع ہو جاتی ہیں اور ہر تخم پیدا ہونے لگتا ہے اسی طرح پر نور نبوت کے نزول پر دماغی اور ذہنی عقلوں میں ایک صفائی اور نورِ فراست میں ایک روشنی پیدا ہوتی ہے۔اگرچہ یہ علیٰ قدرِ مراتب ہوتی ہے اور استعداد کے موافق ہر شخص فائدہ اٹھاتا ہے۔خواہ وہ اس اَمر کو محسوس کرے یا نہ کرے لیکن یہ سب کچھ ہوتا اسی نور نبوت کے طفیل ہے۔۱ الحکم جلد ۷ نمبر ۱۱ مورخہ ۲۴؍ مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۱ تا ۳