ملفوظات (جلد 4) — Page 2
اوّل۔ایک خفیف خواب۱ میں جو کشف کے رنگ میں تھا مجھے دکھایا گیا کہ میں نے ایک لباس فاخرہ پہنا ہوا ہے اور چہرہ چمک رہا ہے۔پھر و ہ کشفی حالت وحی الٰہی کی طرف منتقل ہو گئی چنانچہ وہ تمام فقرات وحی الٰہی کے جو بعض اس کشف سے پہلے اور بعض بعد میں تھے ذیل میں لکھے جاتے ہیں اور وہ یہ ہیں۔یُبْدِیْ لَکَ الرَّحْـمٰنُ شَیْئًا۔اَتٰی اَمْرُ اللہِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْہُ۔بَشَارَۃٌ تَلَقَّاہَا النَّبِیُّوْنَ۔ترجمہ۔خدا جو رحمان ہے تیری سچائی ظاہر کرنے کے لئے کچھ ظہور میں لائے گا خدا کا اَمر آرہا ہے تم جلدی نہ کرو۔یہ ایک خوشخبری ہے جو نبیوں کو دی جاتی ہے۔صبح ۵ بجے کا وقت تھا یکم جنوری ۱۹۰۳ء و یکم شوال ۱۳۲۰ھ روز عید جب میرے خدا نے مجھے یہ خوشخبری دی۔اس سے پہلے ۲۵؍دسمبر ۱۹۰۲ء کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک اور وحی ہوئی تھی جو میری طرف سے حکایت تھی اور وہ یہ ہے۔اِنِّیْ صَادِقٌ صَادِقٌ وَسَیَشْھَدُ اللّٰہُ لِیْ۔ترجمہ۔میں صادق ہوں صادق ہوں عنقریب خدا تعالیٰ میری گواہی دے گا۔یہ پیشگوئیاں بآواز بلند پکار رہی ہیں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسا اَمر میری تائید میں ظاہر ہونے والا ہے جس سے میری سچائی ظاہر ہو گی اور ایک وجاہت اور قبولیت ظہور میں آئے گی اور وہ خدا تعالیٰ کا نشان ہوگا تا دشمنوں کو شرمندہ کرے اور میری وجاہت اور عزّت اور سچائی کی نشانیاں دنیا میں پھیلا وے۔نوٹ۔چونکہ ہمارے ملک میں یہ رسم ہے کہ عید کے دن صبح ہوتے ہی ایک دوسرے کو ہدیہ بھیجا کرتے ہیں سو میرے خدا وند نے سب سے پہلے یعنی قبل از صبح پانچ بجے مجھے اس عظیم الشان پیشگوئی کا ہدیہ بھیج دیا ہے۔اس ہدیہ پر ہم اس کا شکر کرتے ہیں اور ناظرین کو یہ بھی خوشخبری دیتے ہیں کہ ہم عنقریب ان نشانوں کے متعلق بھی اشتہار شائع کریں گے جو اخیر دسمبر ۱۹۰۲ء تک گذشتہ سالوں میں ظہور میں آچکے ہیں۔منہ المشتہر مرزا غلام احمد قادیانی یکم جنوری ۱۹۰۳ء ۱ ۱الحکم جلد ۷ نمبر ۱ مورخہ ۱۰؍ جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۱