ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 78 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 78

مارے گا تب بھی وہ گل گل کر مَر جائے گا۔۳۰ ؍ اپریل ۱۹۰۲ء الہام فرمایا۔آج رات کو الہام ہوا ’’ لَوْ لَا الْاَمْرُ لَھَلَکَ النَّمْرُ‘‘ یعنی اگر سنّت اﷲ اور اَمرِ الٰہی اس طرح پر نہ ہوتا کہ اَئمۃُ الکفر اخیر میں ہلاک ہوا کریں تو اب بھی بڑے بڑے مخالف جلد تباہ ہو جاتے۔لیکن چونکہ بڑے مخالف جو ہوتے ہیں اُن میں ایک خوبی عزم اور ہمت اور لوگوں پر حکمرانی اور اثر ڈالنے کی ہوتی ہے۔اس واسطے اُن کے متعلق یہ امید بھی ہوتی ہے کہ شاید لوگوں کے حالات سے عبرت پکڑ کر توبہ کریں اور دین کی خدمت میں اپنی قوتوں کو کام میں لاویں۔فرمایا۔اس بات میں بڑی لذّت ہے کہ انسان خدا کے وجود کو سمجھے کہ وہ ہے اور رسول کو برحق جانے۔انسان کو چاہیے کہ اپنے گذارے کے مطابق اپنی معیشت کو حاصل کرے اور دنیا کی بہت مُراد یابیوں کی خواہش کے پیچھے نہ پڑے۔۱ ۵ ؍ مئی ۱۹۰۲ء الہامات رات کے تین بجے حضرت اقدسؑکو الہام ہوا۔’’اِنِّیْ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ اِلَّا الَّذِیْنَ عَلَوْا بِا سْتِکْبَارٍ‘‘ یعنی میں دار کے اندر رہنے والوں کی حفاظت کروں گا۔سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے تکبّر کے ساتھ علوّ کیا۔فرمایا۔علوّ دو قسم کا ہوتا ہے۔ایک جائز ہوتا ہے اور دوسرا نا جائز۔جائز کی مثال وہ علوّ ہے جو