ملفوظات (جلد 3) — Page 73
نَشْرًا۱۔فَالْفٰرِقٰتِ فَرْقًا۔فَالْمُلْقِيٰتِ ذِكْرًا۔عُذْرًا اَوْ نُذْرًا۔(المرسلات : ۲ تا ۷) قسم ہے ان ہوائوں کی جو آہستہ چلتی ہیں یعنی پہلا وقت ایسا ہو گا کہ کوئی کوئی واقعہ طاعون کا ہو جایا کرے۔پھر وہ زور پکڑے اور تیز ہو جاوے۔پھر وہ ایسا ہو کہ لوگوں کو پراگندہ کر دے۔اور پریشان خاطر کر دے پھر ایسے واقعات ہوں کہ مومن اور کافر کے درمیان فرق اور تمیز کردیں۔اس وقت لوگوں کو سمجھ آجائے گی کہ حق کس اَمر میں ہے۔آیا اس امام کی اطاعت میں یا اس کی مخالفت میں۔یہ سمجھ میں آنا بعض کے لیے صرف حجّت کاموجب ہو گا۔(عُذْرًا) یعنی مَرتے مَرتے اُن کا دل اقرار کر جائے گا کہ ہم غلطی پر تھے اور بعض کے لیے (نُذْرًا) یعنی ڈرانے کاموجب ہو گا کہ وہ توبہ کر کے بدیوں سے باز آویں۔۲ ۱۸ ؍ اپریل ۱۹۰۲ء الہام فرمایا کہ آج رات کو یہ الہام ہوا۔’’اِنِّیْ مَعَ الرَّسُوْلِ اَقُوْمُ۔وَمَنْ یَّلُوْمُہٗ اَلُوْمُ۔اُفْطِرُ وَاَصُوْمُ‘‘ یعنی میں اپنے رسول کے ساتھ کھڑا ہوں گا۔اس کی مدد کروں گا اور جو اس کو ملامت کرے گا اُس کو ملامت کروں گا۔روزہ افطار کروں گا اور روزہ رکھوں گا یعنی کبھی طاعون بند ہو جائے گی اور کبھی زور کرے گی۔نماز جمعہ کے بعد انجمن حمایتِ اسلام کا اشتہار دربارہ دعا برائے دفعیہ طاعون آپ کو دکھایا گیا جس کی تحریک پر آپ نے طاعون کامختصر اُردو اشتہار لکھا۔بد گو بد باطن مخالف سے اعراض مناسب ہے قادیان میں ایک بدگو بد باطن مخالف آیا ہوا تھا۔اس نے احباب میں سے ایک کو بلایا۔وہ اس کے ساتھ بات کرنے کو گیا۔حضرت کو خبر ہوئی تو فرمایا کہ ایسے خبیث مفسد کو اتنی عزّت نہیں دینی چاہیے کہ اُس کے ساتھ تم میں سے کوئی بات کرے۔