ملفوظات (جلد 3) — Page 72
اور فرمایا کہ اس میں ہم کو حضرت یحییٰ کی نسبت دی گئی ہے کیونکہ حضرت یحیٰی کویہود کی ان اقوام سے مقابلہ کرنا پڑا تھا جو کتابُ اﷲ توریت کو چھوڑ بیٹھے تھے اور حدیثوں کے بہت گرویدہ ہو رہے تھے اور ہر بات میں احادیث کو پیش کرتے تھے۔ایسا ہی اس زمانہ میں ہمارا مقابلہ اہلِ حدیث کے ساتھ ہوا کہ ہم قرآن پیش کرتے اور وہ حدیث پیش کرتے ہیں۔اذان کے وقت کوئی اور نیکی کا کام کرنا ایک شخص اپنا مضمون اشتہار دربارہ طاعون سنا رہا تھا اذان ہونے لگی۔وہ چُپ ہو گیا۔فرمایا۔پڑھتے جائو۔اذان کے وقت پڑھنا جائز ہے۔طاعون زدہ علاقہ میں جانے کی ممانعت ایک شخص نے دریافت کیا کہ میرے اہلِ خانہ اور بچے ایک ایسے مقام میں ہیں جہاں طاعون کا زور ہے۔میں گھبرایا ہوا ہوں اور وہاں جانا چاہتا ہوں۔فرمایا۔مت جائو لَا تُلْقُوْا بِاَيْدِيْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ (البقرۃ : ۱۹۶) پچھلی رات کو اٹھ کر اُن کے لیے دعا کرو۔یہ بہتر ہوگا بہ نسبت اس کے کہ تم خود جائو۔ایسے مقام پر جانا گناہ ہے۔قرآنی الفاظ میں الہامات کی حکمت حضرت اقدس کو الہام ہوا اَنْتَ مَعِیْ اِنِّیْ مَعَکَ۔اِنِّیْ بَایَعْتُکَ بَا یَعَنِیْ رَبِّیْ۔فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ کامنشا ہے کہ قرآن شریف کو حل کیا جائے اس واسطے اکثر الہامات جو قرآن شریف کے الفاظ میں ہوتے ہیں ان کی ایک عملی تفسیر ہو جاتی ہے۔اس سے خدا تعالیٰ یہ دکھانا چاہتا ہے کہ یہی زندہ اور با برکت زبان ہے اور تا کہ ثابت ہو جائے کہ تیرہ سو سال اس سے قبل ہی اسی طرح یہ خدا کا کلام نازل ہوا۔قرآن مجید میں اس زمانہ اور طاعون کے متعلق پیشگوئیاں فرمایا کہ اس آیت قرآن کریم میں اس زمانہ اور طاعون کے متعلق پیشگوئی ہے وَ الْمُرْسَلٰتِ عُرْفًا۔فَالْعٰصِفٰتِ عَصْفًا۔وَّالنّٰشِرٰتِ