ملفوظات (جلد 3) — Page 71
خدا بنایا گیا ہے۔؎ چہ خوش ترانہ زد ایں مطرب مقام شناس کہ درمیان غزل قول آشنا آورد قرآن میں مسیح کی معصومیت کے ذکر کی وجہ قرآن شریف اور احادیث میں جو حضرت عیسیٰ کے نیک اور معصوم ہونے کا ذکر ہے۔اس سے یہ مطلب نہیں کہ دوسرا کوئی نیک یا معصوم نہیں بلکہ قرآن شریف اور حدیث نے ضرورتاً یہود کے منہ کو بند کرنے کے لئے یہ فقرے بولے ہیں کہ یہود نعوذباﷲ مریم کو زنا کا ر عورت اور حضرت عیسیٰ کو ولدالزّنا کہتے تھے۔اس لیے قرآن شریف نے اُن کا ذَبّ کیا ہے کہ وہ ایسا کہنے سے باز آویں۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے جسمانی برکات فرمایا۔حضرت رسول کریمؐ کے ہزاروں جسمانی برکات بھی تھے۔آپ کے جُبّہ سے بعد وفات آپ کے لوگ برکات چاہتے تھے۔بیماریوں میں لوگوں کو شفا دیتے تھے اور بارش نہ ہوتی تو دعا کرتے تھے اور بارش ہو جاتی تھی۔ایک لاکھ سے زیادہ آپ کے اصحابی تھے۔بہتوں کی جسمانی تکلیفات آپ کی دعائوں سے دُور ہو جاتی تھیں۔عیسیٰ کو نبی کریمؐ کے ساتھ کیا نسبت ہو سکتی ہے جس کے ساتھ چند آدمی تھے اور ان کا حال بھی انجیلوں سے ظاہر ہے کہ وہ کس مرتبہ روحانیت کے تھے۔اِس اُمّت کا فرعون فرمایا۔ابو جہل اس اُمّت کا فرعون تھا کیونکہ اس نے بھی نبی کریمؐ کی چند دن پر ورش کی تھی جیسا کہ فرعون مصری نے حضرت موسٰی کی پرورش کی تھی۔اورایسا ہی مولوی محمد حسین صاحب نے ابتدا میں براہین پر ریویو لکھ کر ہمارے سلسلہ کی چند یوم پرورش کی۔ایک الہام کی تشریح حضرت اقدس ؑ نے اپنا ایک پرانا الہام سنایا یَا یَـحْیٰی خُذِ الْکِتَابَ بِقُوَّۃٍ وَالْـخَیْـرُ کُلُّہٗ فِی الْقُرْاٰنِ۔