ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 67 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 67

۱۰؍اپریل۱۹۰۲ء دعا نہ کرنا سُوءِ اَدبی ہے انبیاء علیہم السلام کے سلسلہ میں یہی رہا ہے کہ وہ پیشگوئیوں کے دئیے جانے پر بھی اور اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر سچا ایمان رکھ کر بھی دعاؤں کے سلسلہ کو ہرگز نہ چھوڑتے تھے۔اس لیے کہ وہ خدا تعالیٰ کے غناءِ ذاتی پر بھی ایمان لاتے ہیں اور مانتے ہیں کہ خدا کی شان لَا یُدْرَک ہے اوریہ سُوء ِادب ہے کہ دعا نہ کی جاوے۔لکھا ہے کہ بدر کی لڑائی میں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بڑے اضطرا ب سے دعا کر رہے تھے تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ حضور !اب دعا نہ کریں خدا تعالیٰ نے آپ کو فتح کا وعدہ دیا ہے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا میں مصروف رہے۔بعض نے اس پر تحریر کیا ہے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا ایمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ نہ تھا بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت بہت بڑھی ہو ئی تھی اور ہرکہ عارف تر باشد خائف تر باشد۔وہ معرفت آپ کو اللہ تعالیٰ کے غناءِ ذاتی سے ڈراتی تھی۔پس دعا کا سلسلہ ہرگز چھوڑنا نہیں چاہیے۔مسیح مو عو د کی دعا ؤں کی عظمت ۱۰؍اپریل۱۹۰۲ء صبح کو سیر میں فر مایا کہ میں آج کل طاعو ن سے قادیا ن کے محفو ظ رہنے کے لیے بہت دعائیں کرتا ہوں اور باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے وعدے فرمائے ہیں لیکن یہ سُوءِ ادب اور انبیاء کے طریق سے دور ہے کہ خدا کی لَا یُدْرَک شان اور غناءِ ذاتی سے خوف نہ کیا جاوے۔آج پہلے وقت ہی یہ الہام ہوا۔؎ دلم می بلرزد چو یاد آورم مناجات شوریدہ اندر حرم شوریدہ سے مُراد دعا کرنے والا ہے اور حر م سے مُراد جس پر خدا نے تباہی کو حرام کر دیا ہو اور دلم مے بلرزد خدا کی طرف ہے یعنی یہ دعائیں قوی اثر ہیںمیں انہیں جلدی قبو ل کرتا ہوں۔یہ خدا تعالیٰ