ملفوظات (جلد 3) — Page 66
کے دن محنت کے لیے ہیں۔اگر اب خدا کو یاد کرو گے تو اس کامزا پاؤ گے۔اگرچہ زمینداری اور دنیا کے کاموں کے مقابلہ میںنمازوں میں حاضر ہو نا مشکل معلوم ہوتا ہے۔اور تہجد کے لیے اور بھی مگر اب اگر اپنے آپ کواس کا عادی کر لو گے توپھر کوئی تکلیف نہ رہے گی۔اپنی دعائوںمیں طاعون سے محفو ظ رہنے کی دعا ملا لو۔اگردعائیںکرو گے تو وہ کریم رحیم خدا احسان کرے گا۔دعائیںکرنے کے لیے نصیحت دیکھو! اب کام تم کرتے ہو۔اپنی جانوں اور اپنے کنبہ پر رحم کرتے ہو۔بچوں پر تمہیں رحم آتا ہے۔جس طرح اب ان پر رحم کرتے ہو یہ بھی ایک طر یق ہے کہ نمازوں میں ان کے لیے دعائیں کرو۔رکوع میں بھی دعا کرو پھر سجدہ میں دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ اس بلا کو پھیر دے اور عذاب سے محفوظ رکھے۔جو دعا کرتا ہے وہ محروم نہیں رہتا۔یہ کبھی ممکن نہیں ہے کہ دعائیں کرنے والا غافل پلید کی طرح مارا جاوے۔اگر ایسا نہ ہو تو خدا کبھی پہچانا ہی نہ جاوے۔وہ اپنے صادق بندوں اور غیروں میں امتیاز کر لیتا ہے۔ایک پکڑا جاتا ہے۔دوسرا بچایا جاتا ہے۔غرض ایسا ہی کرو کہ پورے طور پر تم میں سچا اخلاص پیدا ہو جاوے۔۱ ۶؍اپریل ۱۹۰۲ء کشف رات میں نے کشف میں دیکھا کہ کوئی بیمار کتّا ہے میں اسے دوا دینے لگا ہوں تو میری زبان پر جاری ہوا۔’’اس کتّے کا آخری دم ہے۔‘‘ فرمایا۔کشف میں غَیبتِ حِس نہیں ہوتی مگر خواب میں ہوجاتی ہے اور جب الہامِ الٰہی زبان پر جاری ہوتا ہے اس وقت زبان پر اللہ تعالیٰ کا تصرّفِ تام ہوتاہے میرا اس پر کوئی دخل نہیں ہوتا۔۲