ملفوظات (جلد 3) — Page 64
نہیں۔یہ خدا کا فضل و کرم ہے اس لیے توبہ کا وقت ہے اور اگر مصیبت سر پر آپڑی اس وقت تو بہ کیا فائدہ دے گی۔جموں، سیالکوٹ اور لدھیانہ وغیرہ اضلا ع میں دیکھو کہ کیا ہو رہا ہے۔ایک طو فان برپا ہے اور قیامت کا ہنگا مہ ہو رہا ہے اس قدر خوفناک موتیں ہوئی ہیں کہ ایک سنگدل انسا ن بھی اس نظا رہ کو دیکھ کر ضبط نہیں کر سکتا۔چھو ٹا سا بچہ پا س پڑا ہوا تڑپ رہااور بلبلارہا ہے ماں باپ سا منے مَرتے ہیں کوئی خبر گیر نہیں ہے۔بہت عرصہ کا ذکر ہے کہ میں نے ایک رؤیا دیکھی تھی کہ ایک بڑا میدان ہے اس میں ایک بڑی نالی کھدی ہوئی ہے جس پر بھیڑیں لٹا کر قصاب ہا تھ میں چُھری لئے ہوئے بیٹھتے ہیں اور آسمان کی طرف منہ کیے ہوئے حکم کا انتظا ر کرتے ہیں۔میں پاس ٹہل رہا ہوں۔اتنے میں مَیں نے پڑھا قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّيْ لَوْ لَا دُعَآؤُكُمْ(الفرقان : ۷۸ ) یہ سنتے ہی انہوں نے جھٹ چُھری پھیر دی بھیڑیں تڑپتی ہیں اور وہ قصاب انہیں کہتے ہیں کہ تم ہو کیا، گوہ کھانے والی بھیڑیں ہی ہو وہ نظارہ اس وقت تک میری آنکھوں کے سامنے ہے۔غرض خدا بے نیاز ہے، اُسے صا دق مومن کے سو ا اور کسی کی پرو ا نہیں ہو تی اور بعدازوقت دعاقبول نہیںہوتی ہے۔جب اللہ تعالیٰ نے مہلت دی ہے اُس وقت اُسے راضی کر نا چا ہیے لیکن جب اپنی سیہ کاریوں اور گناہوں سے اُسے ناراض کر لیا اور اس کا غضب اور غصہ بھڑک اُٹھا۔اُس وقت عذاب ِ الٰہی کو دیکھ کر تو بہ استغفا ر شرو ع کی اس سے کیا فا ئدہ ہو گا جب سزا کا فتویٰ لگ چکا۔یہ ایسی بات ہے کہ جیسے کوئی شہزادہ بھیس بدل کر نکلے اور کسی دولت مند کے گھر جاکر روٹی یا کپڑا پانی مانگے اور وہ باوجود مقدرت ہو نے کے اس سے مسخری کریں اور ٹھٹھے مار کر نکال دیں۔اور وہ اسی طرح سارے گھر پھرے لیکن ایک گھر والا اپنی چارپائی دے کر بٹھائے اور پانی کی بجائے شربت اور خشک روٹی کی بجائے پلاؤ دے اور پھٹے ہوئے کپڑوں کی بجائے اپنی خاص پو شاک اس کو دے تو اب تم سمجھ سکتے ہو کہ وہ چونکہ دراصل تو بادشاہ تھا اب ان لوگوں سے کیا سلوک کرے گا۔صاف ظاہر ہے کہ ان کمبختوں کو جنہوں نے باوجود مقدرت ہونے کے اس کو دھتکار دیا اور اس سے بد سلوکی کی سخت