ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 63 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 63

چھے وقت آگئے ہو اب بہتر اور مناسب یہی ہے کہ تم اپنے آپ کو بدلالو۔اپنے اعمال میں اگر کوئی انحراف دیکھو تو اُسے دور کر و۔تم ایسے ہوجاؤکہ نہ مخلوق کا حق تم پر باقی رہے نہ خدا کا۔یاد رکھو جو مخلوق کا حق دباتاہے اس کی دعاقبول نہیں ہوتی کیونکہ وہ ظالم ہے۔۱ اپنی زندگی میں انقلاب پیدا کرو اس سلسلہ میںداخل ہو کر تمہارا وجود الگ ہو اور تم بالکل ایک نئی زندگی بسر کرنے والے انسان بن جاؤ۔جو کچھ تم پہلے تھے وہ نہ رہو۔یہ مت سمجھو کہ تم خدا تعالیٰ کی راہ میں تبدیلی کرنے سے محتاج ہوجاؤگے یا تمہارے بہت سے دشمن پیدا ہوجائیں گے۔نہیں، خدا کا دامن پکڑنے والا ہرگز محتاج نہیں ہوتا اس پر کبھی بُرے دن نہیں آسکتے۔خداجس کا دوست اور مدد گار ہو اگر تمام دنیا اس کی دشمن ہوجاوے تو کچھ پروا نہیں۔مومن اگر مشکلات میں بھی پڑے تو وہ ہرگز تکلیف میںنہیں ہوتا بلکہ وہ دن اس کے لیے بہشت کے دن ہوتے ہیں خداکے فرشتے ماں کی طرح اسے گود میں لے لیتے ہیں۔مختصر یہ کہ خدا خودان کامحافظ اور ناصر ہوجاتا ہے یہ خدا جو ایسا خدا ہے کہ وہ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ ہے وہ عالم الغیب ہے وہ حیّ و قیوم ہے۔اس خدا کا دامن پکڑنے سے کوئی تکلیف پا سکتا ہے؟ کبھی نہیں۔خدا تعالیٰ اپنے حقیقی بندے کو ایسے وقتوں میں بچا لیتا ہے کہ دنیا حیرا ن رہ جاتی ہے آگ میں پڑ کر حضرت ابرا ہیم علیہ السلام کا زندہ نکلنا کیا دنیا کے لیے حیرت انگیز اَمر نہ تھا۔کیا ایک خطرناک طو فا ن میں حضرت نوحؑ اور آپ کے رفقاء کا سلا مت بچ رہنا کو ئی چھو ٹی سی بات تھی اس قسم کی بے شمار نظیریں مو جود ہیں اور خو د اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے اپنے دستِ قدرت کے کر شمے دکھا ئے ہیں دیکھو! مجھ پر خون اور اقدامِ قتل کامقد مہ بنا یا گیا۔ایک بڑا بھا ری ڈاکٹر جو پادری ہے وہ اس میں مدّعی ہوا اور آریہ اور بعض مسلمان اس کے معاون ہوئے لیکن آخر وہی ہوا جو خدا نے پہلے سے فرمایا تھا کہ اِبْرَاء ( بے قصور ٹھہرانا )۔پس یہ وقت ہے کہ تم توبہ کرو اور اپنے دلوں کو پاک صاف کر و ابھی طاعون تمہا رے گاؤں میں