ملفوظات (جلد 3) — Page 62
اپنے اندر نہیں رکھتا ہے۔یقیناً سمجھوکہ اگر مصیبت سے پہلے اپنے دلوں کو گداز کرو گے اور خدا تعالیٰ کے حضور اپنی اور اپنے خاندان کی حفاظت کے لیے گریہ و بکا کرو گے تو تمہارے خاندان اور تمہارے بچّے طاعون کے عذاب سے بچائے جائیں گے اگر دنیا داروں کی طرح رہو گے تو اس سے کچھ فائدہ نہیں کہ تم نے میرے ہاتھ پر توبہ کی۔میرے ہاتھ پر توبہ کرنا ایک موت کوچاہتا ہے تاکہ تم نئی زندگی میں ایک ا و ر پیدائش حاصل کرو۔بیعت اگر دل سے نہیں تو کوئی نتیجہ اس کا نہیں میری بیعت سے خدا دل کا اقرار چاہتا ہے پس جو سچے دل سے مجھے قبول کرتا اوراپنے گناہوںسے سچی توبہ کرتاہے، غفور و رحیم خدا اُس کے گناہوں کو ضرور بخش دیتاہے اور وہ ایساہو جاتا ہے جیسے ماں کے پیٹ سے نکلا ہے۔تب فرشتے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ایک گائوں میں اگر ایک آدمی نیک ہو تواللہ تعالیٰ تو اس نیک کی رعایت اور خاطر سے اس گاؤںکو تباہی سے محفوظ کرلیتا ہے لیکن جب تباہی آتی ہے تو پھر سب پر پڑتی ہے مگر پھر بھی وہ اپنے بندوں کو کسی نہ کسی نہج سے بچالیتا ہے۔سنّت اللہ یہی ہے کہ اگر ایک بھی نیک ہو تو اس کے لیے دوسرے بھی بچائے جاتے ہیں۔جیسے حضرت ابراہیم ؑکا قصہ ہے کہ جب لُوط کی قوم تباہ ہونے لگی تو انہوںنے کہا کہ اگر سَو میںسے ایک ہی نیک ہو تو کیا تباہ کردے گا؟ کہا نہیں آخر ایک تک بھی نہیں کروں گا۔فرمایا۔لیکن جب بالکل حد ہی ہو جاتی ہے تو پھر لَا يَخَافُ عُقْبٰهَا خدا کی شان ہو تی ہے پلیدوں کے عذاب پر وہ پروا نہیںکرتا کہ اُن کی بیوی بچوں کاکیا حال ہوگا اور صادقوں اور راستبازوں کے لیے كَانَ اَبُوْهُمَا صَالِحًا(الکھف:۸۳) کی رعایت کرتا ہے۔حضرت موسیٰ اور خضر کو حکم ہوا تھا کہ ان بچوں کی دیوار بنا دو اس لیے کہ اُن کا باپ نیک بخت تھا۔اور اس کی نیک بختی کی خدا نے ایسی قدر کی کہ پیغمبر راج مزدور ہوئے، غرض ایسا تو رحیم کریم ہے لیکن اگر کوئی شرارت کرے اورزیادتی کرے تو پھر بہت بُری طرح پکڑتا ہے۔وہ ایسا غیور ہے کہ اس کے غضب کو دیکھ کر کلیجہ پھٹتاہے۔دیکھولُوط کی بستی کو کیسے تباہ کر ڈالا۔اس وقت بھی دنیا کی حالت ایسی ہی ہورہی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے غضب کو کھینچ لائی ہے تم بہت