ملفوظات (جلد 3) — Page 60
سوم۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو مثیلِ موسیٰ ٹھہرا کر یہ تعلیم دی کہ جس طرح سلسلہ موسوی میں رسول آتے رہے محمدی سلسلہ میں بھی اس کا نمونہ اور نظیر ہو گی۔گویا اس سلسلہ کا خاتم الخلفاء موسوی سلسلہ کے خاتم الخلفاء کے نام پر مسیح کے نام سے آئے گا۔چنانچہ ان وعدوں کے موافق جب خدا نے مجھے مسیح موعود بنا کر بھیجا تو میری تائید میں زمین اور آسمان نے بھی اپنی شہادت کو ادا کر دیا۔یعنی زمین کی حالت بجائے خود ایسی ہو گئی کہ وہ پکار پکار کر کہہ رہی تھی کہ خدا کامامور اور مصلح اس وقت آئے۔وہ ہر قسم کے فساد سے لبریز ہو گئی تھی۔اسلام پر خطرناک حملے شروع ہو چکے تھے۔آسمان نے اپنے نشانوں سے میری شہادت دی چنانچہ جس طرح پر پہلے کہا گیا تھا، اُسی طرح اپنے وقت پر کسوف و خسوف ہو گیا۔زمین کے دوسرے نشانات میں سے طاعون بھی ایک بڑا نشان ہے۔غرض جو کچھ تسلّی کے لیے ضروری تھا وہ خدا نے سب پورا کردیا۔اگر کسی کو خبر نہیں تو اُسے چاہیے کہ ان کتابوں کو جو ہم نے لکھی ہیں پڑھے یا سنے کہ کیوں کر خدا تعالیٰ نے اپنے نشانات کو وقت پر پورا کیا ہے۔بغیر علم کے انسان اندھا ہوتا ہے اور جہالت ایک موت ہے۔پس اس نابینائی اور موت سے بچنا چاہیے۔خدا کے نشانات سمندر کی طرح بہہ رہے ہیں۔ایک زبر دست اور کھلا کھلا نشان طاعون کا ہے جو خدا تعالیٰ نے طعنہ کرنے والوں اور سفیہوں کے لیے رکھا ہوا تھا وہ بھی پورا ہو گیا۔میں سچ کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ اس وقت غضب میں ہے۔اُس کی باتوں پر ہنسی کی گئی۔اس کے نشانوں کو ذلیل قرار دیا گیا اس لیے خدا کے قہر کے دن آگئے۔اب دیکھو گے کہ وہ کیا کرے گا۔اب وہ وقت آیا ہے کہ یہ الہام پورا ہو رہا ہے۔’’دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اُس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔‘‘ اس لیے اب وہ وقت ہے کہ نیک بخت کو بھی ڈرنا چاہیے کیونکہ خدا بے نیاز ہے۔موت کو یاد رکھو کہ یہ دن خدا کے غضب کے ہیں۔نمازوں پر پکے ہو جائو۔تہجد پڑھو اور عورتوں کو بھی نماز کی تاکید کرو۔