ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 495 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 495

۲۱۵ بہشت ایسی جگہ ہے جہاں کوئی دکھ نہ ہو کسی کو کسی سے کچھ کام نہ ہو۔۲۱۶ فقیر کے گھر کوئی نہیں آتا کہ زمین اور باغ کا خراج ادا کرو۔۲۱۷ جوانی میں دونوں جہانوں کے کام کرو۔۲۱۷ زندگی کی رنگینی بس چند سال ہی ہوتی ہے جیسے ہی چالیسواں سال آتا ہے انسان کے قویٰ کا انحطاط شروع ہوجاتا ہے۔۲۱۸ اس وقت میرے سر پر گویا تاج تھا جب میرے سر پر باپ کا سایہ تھا۔۲۱۸ اگر میرے جسم پر کوئی مکھی بھی بیٹھ جاتی تو بہتوں کے دل پریشان ہوجاتے۔۲۲۴ میں تُو بن گیا تُو میں بن گیا میں تن بنا تُو جان بن گیا۔تا بعد میں کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ میں کوئی اور ہوں اور تُو کوئی اور ہے۔۲۲۸ کیا تُو نے زمینی کاموں کو درست کر لیا ہے، کہ آسمانی کاموں کی طرف بھی متوجہ ہو گیا ہے۔۲۳۵ اپنی صفائی میں بے ہودہ دلائل پیش کرنا الزام کے سچے ہونے کا ثبوت ہے۔۲۳۶ خد اکو خدا کی ہستی سے پہچانا جا سکتا ہے۔۲۳۸ خد اکو خدا کی ہستی سے پہچانا جا سکتا ہے۔۲۵۴ جب عمر کا معاملہ پوشیدہ ہے تو بہتر ہے کہ وہ موت کے آنے کے دن محبوب سامنے نہ ہو۔۲۸۴ وہ تمام خوبیاں جو حسینوں میں پائی جاتی ہیں وہ سب تیری ذات میں ہیں۔۳۱۲ اس کا وبال اس پر پڑا اور ہم سے در گزر کیا گیا۔۳۱۶ کسی نے اس (یعقوب )سے جس کا بیٹا گم ہو گیا تھا پوچھا کہ اے روشن ضمیر دانا بزرگ۔