ملفوظات (جلد 3) — Page 494
صادق وہ ہوتا ہے کہ ابتلاؤں کے دن محبت اور وفاداری سے گزارتا ہے۔۱۶۸ اگر قضائے الٰہی سے عاشق قید ہوجاتا ہے تو وہ اس زنجیر کو چومتا ہے جس کا سبب آشنا ہو۔۱۶۹ تجھے کشتی لے آئی اور ہمیں خدا (لے آیا)۔۱۷۱ ایک ہی جگہ استقلال سے کام کرنا چاہیے۔۱۷۹ پیغام یہ ہے کہ تیرے بغیر زندگی کے خواہشمند نہیں، اے قاصد سن ! پیغام سمجھ لے اور پھر اسے اسی طرح پہنچانا۔۱۷۹ جدائی کے زمانہ کی ہی داستان ہے۔۱۸۵ اے عشق سامنے آتو جو پہلوانوں کے مغز کھا گیا ہے اور شیروں جیسے دل والوں سے رستم جیسی بہادریاں دکھائی ہیں۔۱۸۵ اب جو تو نے ہمارے مقابلہ کی ٹھانی ہے تو اگر اپنے تما م داؤ پیچ عمل میں نہ لائے تو نامَر دکہلائے گا۔۱۸۵ ہر آزمائش جو خدا نے اس قوم کے لئے مقدر کی ہے، اس کے نیچے رحمتوں کا خزانہ چھپا رکھا ہے۔۲۰۰ ترکِ دنیا ، پرہیز گاری اور صدق و صفا کے لئے ضرور کوشش کر، مگر مصطفٰیؐ (کے بتائے ہوئے طریقوں )سے تجاوز نہ کر۔۲۰۰ ایسی نصیحت جو دل سے کی جائے وہ ضرور دل پر اثر کرتی ہے۔۲۰۹ بزرگ واعظ نے دوزخ کی آگ کے متعلق جو کچھ بیان کیا ہے وہ جدائی کے زمانہ کی ہی داستان ہے۔