ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 492 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 492

ویسے ہی روحانی بھی لیتا ہے تفاوت مراتب کے لحاظ سے تناسخ کی ضرورت کو ماننا غلطی ہے یہ تو ہر ایک جگہ پایا جاتا ہے نباتات میں بھی ہم تفاوت مراتب کو دیکھتے ہیں اور اسی طرح انسانوں میں بھی ہے۔آریوں کے دیگر عقائد جس قدر بادشاہ اور راجہ ہیں اگر وہ لوگ اس آرام کے ساتھ ایک مشقّت عبادت کی نہ ملاویں گے تو وہ سخت عذاب پاویں گے۔خدا نے بعض کو خود مشقّت دے دی ہے اور بعض کو نہیں۔جو لوگ دنیا میں دولت رکھتے ہیں اور عیاشی اور فسق و فجور میں مبتلا ہیں ان سے حساب ہوگا جیسے ایک انسان سرد پانی پیتا ہے مگر اپنے بھائی کو نہیں دیتا تو سزا پاوے گا۔جس حال میں کہ آگے جاکر سب کمی بیشی پوری ہو جاتی ہے تو پھر اعتراض کیا ہے ان کے پاس کوئی دلیل موجود نہیں کہ خدا ہے۔کشف و کرامات کے منکر ہیں۔روح اور پرمانو کو انادی مانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ صرف جوڑ جاڑ پر میشر کرتا ہے۔ہم کہتے ہیں کہ جب روح اپنے صفات میں پرمیشر کا محتاج نہیں ہے اور نہ ذرّات (پرمانو) پرمیشر کے محتاج ہیں تو پھر جوڑنے میں اس کی کیوں احتیاج ہوئی؟بلکہ جیسے وہ اپنے وجود اور صفات میں خود بخود ہیں تو کیا وجہ ہے کہ آپس میں جڑ نہ سکتے ہوں؟ جب ایک انسان کا بدن اپنا ہے، کپڑے اپنے ہیں تو پہننے کے واسطے دوسرے کی کیا ضرورت ہے؟ عیسائیوں کی طرح ان کے ہاتھ میں بھی اعتراض ہی اعتراض ہیں۔اسلام پر کثرتِ ازدواج کا اعتراض کرتے ہیں حالانکہ کئی ہزار کرشن کی بیویاں تھیں۔۱