ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 491 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 491

تاریں کوئی کسی طرف کو اور کوئی کسی طرف کو نکلی ہوئی تھیں اور سوائے اس نقطہ کے اور کوئی حرکت اس میں نہ تھی تو میں نے اس سے یہ نتیجہ نکالا کہ یہ خلق اشیاء کا سلسلہ ایسا نہیں معلوم ہوتا کہ اوّل سر بنایا پھر ہاتھ پھر پائوں وغیرہ بلکہ اس کی کارروائی یکساں ہوتی ہے اور سب کچھ پہلے ہی سے ہوتا ہے صرف نشوونما پاتا جاتا ہے میں نے بعض دائیوں کو کہا ہوا تھا کہ جو بچے اسقاط ہوا کریں تو دکھایا کرو تو میں نے بعض بچے دیکھے ان کے بھی سب اعضا وغیرہ بنے بنائے تھے خدا کا یہ خلق معمار کی طرح نہیں ہوتا کہ اوّل دیواریں بنائیں پھر چوبارہ بنایا پھر اوپر اور کچھ بنایا بلکہ چار ماہ کے بعد جب روح کی تکمیل ہوتی ہے تو اس وقت اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ اس پر صادق آتا ہے تو بچہ حرکت کرنے لگتا ہے۔تکمیل کے مراتب ستہ جیسے دنیا کے سات دن ہیں یہ اشارہ اسی طرف ہے کہ دنیا کی عمر بھی سات ہزار برس ہے اور یہ کہ خدا نے دنیا کو چھ دن میں بنا کر ساتویں دن آرام کیا اس سے یہ بھی نکلتا ہے کہ ہر ایک شَے چھ مراتب ہی طے کر کے مرتبہ تکمیل کا حاصل کرتی ہے نُطفہ میں بھی اسی طرح چھ مراتب ہیں کہ انسان اوّل سلسلہ میں طِیْن ہوتا ہے پھر نُطفہ، پھر عَلَقَہ، پھر مُضْغَہ، پھر عِظَامًا، پھر لَـحْمًا، پھر سب کے بعد اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ باہر سے کچھ نہیں آتا بلکہ اندر ہی سے ہر ایک شَے نشوونما ہوتی رہتی ہے۔رُوح سے متعلق آریوں کے عقیدہ کا ردّ آریوں کا یہ اصول ہےکہ جب انسان مَرتا ہے تو اس کی روح اندر سے نکل کر آکاش میں رہتی ہے رات کو اَوس کے ساتھ مل کر کسی پتے یا گھاس پر پڑتی ہے وہ پتّا یا گھاس کوئی کھالیتا ہے تو اس کے ساتھ وہ روح بھی کھالی جاتی ہے جو کہ پھر دوسری جاندار شَے میں نمودار ہوتی ہے اب اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ بچہ خَلق اور خُلق میں ماں اور باپ ہر دو سے حصہ لیتا ہے اور جیسے جسمانی حصہ لیتا ہے