ملفوظات (جلد 3) — Page 486
ہی حواس نہیں ہے بلکہ انسان کے اندر بھی ایک قسم کے حواس ہوتے ہیں۔ظاہری حواس تو حیوانوں میں بھی ہوتے ہیں جیسے کھانا پینا، دیکھنا، چُھونا وغیرہ مگر اندرونی حواس انسانوں میں ہی ہوتے ہیں مثلاً اگر ایک بکری گھاس کھارہی ہو اوردوسری بکری آجاوے تو پہلی بکری کے اندر یہ ارادہ پیدا نہ ہوگا کہ اسے بھی ہمدردی سے گھاس کھانے میں شریک کرے۔اسی طرح شیر میں اگر چہ زور اور طاقت تو ہوتی ہے مگر ہم اسے شجاع نہیں کہہ سکتے کیونکہ شجاعت کے واسطے محل اور بے محل دیکھنا بہت ضروری ہے انسان اگر جانتا ہے کہ مجھ کو فلاں شخص سے طاقت مقابلہ کی نہیں ہے یا اگر میں وہاں جائوں گا تو قتل ہو جائوں گا تو اس کا وہاں نا جانا ہی شجاعت میں داخل ہوگا اور پھر اگر محل اور موقع کے لحاظ سے مناسب دیکھے کہ میرا وہاں جانا ضروری ہے خواہ جان خطرہ میں پڑتی ہو تو اس مقام پر جانے کا نام شجاعت ہے۔جاہل آدمیوں سے جو بعض وقت بہادری کا کام ہوتا ہے حالانکہ ان کو محل بے محل دیکھنے کی تمیز نہیں ہوتی اس کا نام تہوّر ہوتا ہے کہ وہ ایک طبعی جوش میں آجاتے ہیں اور یہ نہیں دیکھتے کہ یہ کام کرنا چاہیے تھا کہ نہیں۔غرضیکہ انسان کے نفس میں یہ سب صفات مثل صبر، سخاوت، انتقام، ہمت، بخل، عدمِ بخل، حسد، عدمِ حسد ہوتے ہیں اور ان کو اپنے محل اور موقع پرصَرف کرنے کا نام خُلق ہے حسد بہت بُری بلا ہے لیکن جب موقع کے ساتھ اپنے مقام پر رکھا جاوے تو پھر بہت عمدہ ہو جاوے گا۔حسد کے معنی ہیں دوسرے کا زوالِ نعمت چاہنا لیکن جب اپنے نفس سے بالکل محو ہو کر ایک مصلحت کے لئے دوسرے کا زوال چاہتا ہے تو اس وقت یہ ایک محمود صفت ہوجاتی ہے جیسے کہ ہم تثلیث کا زوال چاہتے ہیں۔ملائک اور شیطان کا عقلی ثبوت انسان کے اندر دو ملکہ خدا نے رکھے ہیں ایک فرشتہ اور شیطان۔یہاں نووارد صاحب نے سوال کیا کہ فرشتہ اور شیطان کا عقلی ثبوت کیا ہے۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ آپ کے قویٰ میں نیکی کی طرف کبھی حرکت ہوتی ہے اور کبھی بدکاری کی طرف ہوتی ہے یا نہیں؟ نووارد صاحب نے کہا کہ ہاں۔