ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 481 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 481

گی پھر وہ سید ھا جہنم میں جاوے گا۔لیکن جس شخص کی ساری خوشیاں اور لذّتیں خدا میں ہیں اس کو کوئی دکھ اور تکلیف محسوس نہیں ہوسکتی وہ اس دنیا کو چھوڑتا ہے تو سیدھا بہشت میں ہوتا ہے۔دل اﷲ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں اصل بات یہ ہے کہ دل اﷲ کے اختیار میں ہے وہ جس وقت چاہتا ہے دل میں یہ بات ڈال دیتا ہے اور اس کو سمجھ آجاتی ہے کہ سچا سرور اور خوشحالی اس میں ہے کہ خدا کو پہچانا جاوے دیکھو! میں اس وقت یہ بات تو کر رہا ہوں مگر میرے اختیار میںیہ بات نہیں ہے کہ دلوں تک اس کو پہنچا بھی دوں یہ خداہی کا کام ہے جو دلوں کو زندہ کرتا ہے اور بیدار کرتا ہے۔باقی تمام جوارح آنکھ، ہاتھ، وغیرہ ایسے ہیں جو انسان کے اختیار میں ہیں۔مگر دل اس کے اختیار میں نہیں ہے اس وقت تک اپنے آپ کو مسلمان نہیں سمجھنا چاہیے جب تک دل مسلمان نہ ہو جاوے اور دل مسلمان نہیں ہوتا جب تک وہ لہو ولعب سے لذّت حاصل کرتا ہے اس کے مسلمان ہونے کا وہی وقت ہے جب وہ دنیوی حیثیت سے دل برداشتہ ہو گیا ہے اور دنیا کی لذّتیں اور خوشیاں ایک تلخی کا رنگ دکھائی دیتی ہیں جب یہ حالت ہو تو پھر انسان اپنے آپ کو مشاہدہ کرتا ہے کہ میں وہ نہیں رہا ہوں بلکہ اور ہو گیا ہوں پھر دل میں ایک کشش پاتا ہے اور اﷲ تعالیٰ کی یاد میں لذّت حاصل کرتا ہے اور ایسی محبت اسے نماز سے ہو جاتی ہے جیسے کسی اپنے عزیز کو دیکھ کر خوش ہوتا ہے یہ ہے اصل جڑھ ایمان کی۔مگر یہ انسان کے اپنے اختیار میں نہیں ہے ہم اس بات کا نمونہ نہیں بتاسکتے اور نہ الفاظ میں اس کو سمجھا سکتے ہیں کیونکہ الفاظ حقیقت کے قائم مقام نہیں ہوتے اس لئے جب یہ حالت آتی ہے تو پھر انسان اپنی گذشتہ زندگی پر حسرت اور افسوس کرتا ہے کہ وہ یونہی ضائع ہوگئی کیوں پہلے ایسی حالت مجھ پر نہ آئی۔نماز کی حقیقت نماز کیا چیز ہے۔نماز اصل میں ربُّ العزّۃ سے دعا ہے جس کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا اور نہ عافیت اور خوشی کا سامان مل سکتا ہے جب خدا تعالیٰ اس پر اپنا فضل کرے گا اس وقت اسے حقیقی سرور اور راحت ملے گی اس وقت سے اس کو نمازوں میں لذّت